عوام کے تئیں ارباب مدارس کی ذمہ داریاں
از: مفتی جسیم الدین قاسمی، مدہوبنی*
مدارس اسلامیہ کی اہمیت وافادیت اور تاریخی
حیثیت کسی بھی صاحب علم ذی شعور انسان پر مخفی نہیں، علمی و دینی خدمات کے ساتھ
ملک کی ترقی و سلامتی کے لئے بھی مدارس کا نمایاں کردار رہا ہے، وطن عزیز کی خاطر
قربانی دینے کیلئے مدارس اور علماء کا قائدانہ کردار ملک کی جدوجہد آزادی سے لے کر
آج تک تاریخ کا ایک قابل فخر اور زریں حصہ ہے۔ مدارس اسلامیہ امت مسلمہ کی وہ متاع
عزیز ہیں جن کے ساتھ اس کا ملّی تشخص اور دین و مذہب کی بقاء کا سلسلہ مربوط ہے،
یہ دینی ادارے اسلامی تہذیب و ثقافت اوراخلاقی اقدار کا نمونہ ہیں۔
عقیدہ توحید ، حسن
عبادت، خوش معاملگی، پاکیزگئ اخلاق او ربلندئ کردار ایک مسلمان کی زندگی کا وہ
زیور ہیں کہ جن کے باعث وہ سینکڑوں میں ایک پہچانا جاتا رہا، لیکن افسوس کہ آج
مسلمانوں کی اکثریت ان صفات سے عاری ہوچکی ہے۔ عقائد کو لیجئے، تو شرک و بدعت، جو
تمام تر اعمال انسانی اور اس کی عبادتوں اور ریاضتوں کے لیے ڈائنا میٹ کا درجہ
رکھتے ہیں، اس کی گویا گھٹی میں پڑچکے ہی|ں او ران کی ہلاکت آفرینی کا اسے کوئی
احساس و شعور ہی ہیں۔ عبادات کو لیجئے، تو فریضہ نماز میں تساہل ، فریضہ صیام میں
تغافل اور فریضہ حج و زکوٰة میں تکاسل ہی نہیں، بلکہ ان چیزوں سے جیسے اُسے اب
کوئی واسطہ ہی نہ رہا ہو، اور یوں وہ ''زندگی ، بے بندگی، شرمندی'' کا مصداق ہوکر
رہ گیا ہے۔ معاملات کو لیجئے، تو اس کی بدمعاملگی کے حوالے سے آج کا غیر مسلم بھی
اپنے ہم مذہبوں کو یہ کہہ کر عار دلاتا ہے کہ ''کہیں تم مسلمان تو نہیں ہوگئے؟''
او رجہاں تک اخلاق و کردار کا معاملہ ہے، تو آج مسلمان ہی مسلمان کے خون کا پیاسا
، مسلمان ہی مسلمان کے زر و مال کا دشمن ، مسلمان ہی مسلمان کی عزت و عصمت کا ڈاکو
اور مسلمان ہی مسلمان کے ہر لحآظ سے درپے آزار نظر آتا ہے۔ او رمسلمان ہر جگہ ہر
لحاظ سے ذلیل و رسوا ہے۔آپ نے کبھی سوچا کہ ایسا کیوں ہے؟
یہ اس لئے کہ ہم ''امر بالمعروف اور نہی عن المنکر'' کے فریضہ کی تکمیل میں کوتاہی کررہے ہیں۔ امت
مسلمہ کا جو ہر دور میں اس کا طرہ امتیاز رہا ہے۔ارشاد باری تعالیٰ ہے
كُنتُمْ
خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ
عَنِ الْمُنكَرِ وَتُؤْمِنُونَ بِاللَّـهِ...﴿سورۃ آل عمران: ١١٠)
''تم سب امتوں میں سے
بہترین امت ہو کہ نیکی کا حکم کرتے ہو، بُرائی سے روکتے ہو او راللہ پر ایمان
رکھتے ہو۔"
حالانکہ رسول اللہ ﷺ نے
فرمایا تھا:
''من رای منکم منکرا فلیغیرہ بیدہ
فإن لم یستطع فبلسانه فإن لم یستطع فبقلبه و ذٰلك أضعف الإیمان''
کہ ''تم میں سے جو شخص
بُرائی کو دیکھے تو اسے چاہیے کہ اپنے (زور) بازو سے اسے مٹا ڈالے ، ہاں اگر اس کی
سکت نہ رکھتا ہو تو زبان سے (منع کرے) اور اگر اس کی بھی استطاعت نہ پائے تو (کم
ازکم) دل سے (ہی اسے بُرا جانے) او ریہ (آخری درجہ) ضعیف ترین ایمان (کی علامت )
ہے۔''
لیکن آج ہر شخص اپنے
میں مگن ہے کسی کو برائی کرتادیکھ کر بھی اسے روکنے جرءت نہیں کرتا کہ کہیں وہ
ناراض نہ ہوجائے۔ رسول اللہ ﷺ نے ایسے ہی ''مصلحت کیشوں'' کی آنکھیں کھول دینے کو
، اس افسوسناک طرز عمل کے انجام بد سے ، انہیں یوں ڈرایا تھا:
''عن
النعمان بن بشیر قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم المدھن في حدود اللہ
والواقع فیھا مثل قوم۔ استھموا و صاربعضھم في أسفلھا وصار بعضھم في أعلاھا فکان
الذي في أسفلھا یمر بالمآء علی الذین في أعلاھا فتأذوا به فأخذ فأسا فجعل ینقر
أسفل السفینة فأتوہ فقالوا مالك قال تأذیتم بي ولاید لي من المآء فإن أخذوا علی ٰ
یدیه أنجوہ و نجو اأنفسھم وإن ترکوہ أھلکوه وأھلکوا أنفسھم''
''رسول اللہ ﷺ نے
فرمایا: حدود اللہ میں مداہنت کرنے والے، یا ان میں جا پڑنے والے کی مثال اس قوم
(کے افراد) کی مانند ہے، جو کشتی میں بیٹھے اور قرعہ ڈال کر بعض تو کشتی کے نچلے
حصے میں چلے گئے اور بعض اوپر والے حصے میں۔ اب نیچے والے پانی لے کر اوپر والوں
کے پاس سے گزرتے ہیں، جس سے (اوپر والوں کو )کوفت ہوتی ہے۔ لہٰذا (نیچے والوں میں
سے) ایک نےکلہاڑا پکڑا او رکشتی کے پیندے میں سوراخ کرنا شروع کیا۔ اس پر (اوپر
والے) اس کے پاس گئے کہ یہ کیا؟ تو اس نے جواب دیا: میرے اوپر آنے کی وجہ سے تم نے
تکلیف محسوس کی او رمجھے پانی کی (بہرحال) ضرورت ہے۔ پس اگر یہ |(اوپر والے) اس کا
ہاتھ پکڑ لیں گے (اور اس حرکت سے اسے باز رکھیں گے) تو اسے بھی اور خود اپنے تئیں
بھی ہلاکت سے بچا لیں گے، لیکن اگر وہ اسے (اس کے حال پر) چھوڑ دیں گے تو خود بھی
ڈوبیں گے او راسے بھی لے ڈوبیں گے۔''
والذي نفسي بیدہ لتأمرن بالمعروف
ولتنھون عن المنکر أو لیو شکن اللہ أن یبعث علیکم عذابا من عندہ ثم لتد عنه ولا
یستجاب لکم
قسم ہے اس ذات کی، جس
کے دست قدرت میں میری جان ہے، تم ضرور نیکی کا حکم کرو گے اور بُرائی سے روکو گے ،
ورنہ قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ تم پر اپنا عذاب مسلط کردے، پھر (یہ وہ وقت ہوگا کہ )
تم دعاء کرو گے او روہ قبول نہ ہوگی۔
اور کسے معلوم نہیں کہ
''أمر بالمعروف و نهي عن المنکر'' کے مکلف، عوام الناس سے زیادہ علمائے امت ہیں۔
علمائے امت کا مقام وہی ہے ، جو انسانی جسم میں اعضائے رئیسہ کا۔ اگر یہ اعضائے
رئیسہ اپنا کام ٹھیک ٹھیک انجام دے رہے ہوں تو جسم کسی اندرونی مرض کا شکار نہیں
ہوتا اور بیرونی صدمات کے مقابلہ میں بھی وہ پوری قوت مدافعت رکھتا ہے، جبکہ عام
اعضائے انسانی کا نقص، اعضائے رئیسہ کے اختلال کی نشاندہی کرتا ہے۔ چنانچہ یہ
حقیقت ہے کہ عوام الناس کے اعمال و اخلاق او رکردار میں خوبی، علماء کی خرابی
وفساد کی وجہ سے ظہور میں آتی ہے۔ ایک تو اس لیےکہ جب علمائے امت اپنا فرض منصبی
ادا کرنا چھوڑ دیتے ہیں تو عوام الناس کو روکنے والا کوئی نہیں ہوتا، لہٰذا وہ من
مانی کرنے لگتے ہیں اور دوسرے اس لیے کہ جب خود علماء ہی میں نقص آجائے تو خود ان
کا وجود او ران کا طرز عمل عوام الناس کی آوارگیوں کے لیے سند جواز مہیا کردیتا
ہے، جس کے نتیجہ میں پوری امت فساد اور بدعملی کی لپیٹ میں آجاتی ہے۔
لہٰذا علمائے امت میں
سے بھی اس فریضہ ''امر بالمعروف و نہی عن المنکر'' کی زیادہ تر ذمہ داری ان علماء
پر عائد ہوتی ہے، جو کتاب وسنت کے چمن سے ''قال اللہ و قال الرسول'' کے سدا بہار
اور رنگا رنگ پھول چننے کے عادی ہیں۔ یا بالفاظ دیگر اصلاح احوال کے لیے ''امر
بالمعروف اور نہی عن المنکر'' کی جملہ کوششیں کتاب وسنت کی روشنی میں ہونی چاہئیں،
ورنہ نہ صرف ان کے مثبت نتائج برآمد نہ ہوں گے، بلکہ اللہ رب العزت کے نزدیک بھی
ان کی کوئی حیثیت نہ ہوگی۔
پس آج جب کہ ہمارا معاشرہ ہر قسم کے جرائم، بے عملیوں او
ربدعملیوں کی آماج گاہ بن چکا ہے، علمائے امت کا یہ فرض ہے کہ پہلے وہ خود صحیح
ہوں، اپنے تئیں ایمان و تقویٰ او راخلاق و اعمال صالحہ سے آراستہ کریں، پھر امت کی
خیر خواہی او راصلاح احوال کا فریضہ انجام دینے کے لیے میدان میں نکلیں۔ صراط
مستقیم کی طرف امت کی راہنمائی کریں او رہر قسم کے اعتقادی،عملی، اخلاقی، اور
سماجی بُرائیوں کے خاتمہ کے لیے بے چین ہوجائیں کہ عافیت و سلامتی کا راستہ تو بس
یہی ہے ۔ ورنہ خدانخواستہ یہ بداعمالیاں، جو ہمارے معاشرہ میں روز افزوں ہیں، نہ
صر ف اس دنیا میں ہمیں چین نہیں لینے دیں گی بلکہ یہ ہماری عاقبت کی تباہی و
بربادی کا پیغام بھی لائیں گی۔ اور جس سے علمائے امت ہر گز ہرگز بری الذمہ نہیں
ہوں گے۔
افسوس کا مقام ہے کہ
بہت سے مدارس علاقے سے بلکل کٹے ہوئے ہوتے ہیں اور عوام سے چندہ کے علاوہ کسی اور
موقع پہ ان کا رابطہ نہیں ہوتا۔ حالانکہ مدارس کے قیام کا مقصد ہی ہے عوام میں
دینی بیداری لانا اور معاشرے میں دین کو زندہ رکھنا۔
ہندوستان ایک تکثیری معاشرے کا ملک ہے، جو صدیوں
سے مختلف مذاہب اور تہذیب و ثقافت کا گہوارہ ہونے کی حیثیت سے بین الاقوامی دنیا
میں اپنی ایک شناخت رکھتا ہے۔ ملک کے آئین کے اعتبار سے بھی یہاں کے تمام باشندوں
کو اپنے مذہبی افکار وعقاید اور زبان وکلچر کے تحفظ، ان کے استعمال اور ان کی
ترویج و اشاعت کا حق حاصل ہے۔
مگر ملک کے اقتدار پر
قابض طاقتیں، ملک کی اس قابل فخر رنگارنگ تہذیب کو ختم کرکے ملک کی تمام مذہبی و
تہذیبی اکائیوں کو ایک رنگ میں رنگ لینا چاہتی ہیں۔ اپنے ہدف تک پہنچنے کے لیے
سرکاری سطح سے لے کر عوامی سطح تک سرگرم عمل ہیں۔ چناں چہ اخلاقی اقدار اور قومی
کلچر کے نام پر برہمنی عقاید واساطیر کو اسکولی تعلیم کے قومی نصاب میں شامل
کردینے کی کوششیں ایک عرصہ سے جاری ہیں اور فروغ انسانی وسائل کا مرکزی وریاستی
دفتر اپنے تمام تر اختیارات کے ساتھ اس مہم کو سرکرنے میں مصروف ہے۔
اس نازک وقت میں علمائے امت کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان اہم مسائل کی طرف توجہ دیں. اس وقت ایک بہت بڑے طبقے کی صلاحیت فروعی مسائل اور آپسی جھگڑوں میں لگ رہی ہے، فاتحہ خلف الامام اور رفع یدین جیسے مسائل میں الجھنا اور آپسی افتراق کا یہ وقت بالکل متحمل نہیں، تعلیم وتعلم کی حد تک یہ بحثیں ضروری ہیں لیکن عوام کے سامنے اس طرح کے مباحث لانے سے کوئی فائدہ نہیں۔ فروعی مسائل میں یوں الجھنے سے نوجوان نسل علماء سے دور ہو رہی ہے، وقت کا تقاضہ ہے کہ علماء خاص کر وہ علما جو مدارس سے منسلک ہیں غور و فکر کریں اور سوچیں کہ وہ کس طرح اپنی صلاحیتوں اور اپنے ذرائع وتعلقات کو بروئےکار لاکر امت کے لیے نفع مند ثابت ہوسکتے ہیں۔
حالات اور ماحول سے بے
خبری ٹھیک نہیں. اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے، یہ دین خانقاہوں، مساجد اور مدارس
تک محدود ہونے کے لیے نہیں آیا بلکہ شریعت اسلامی میں روز قیامت تک آنے والے تمام
مسائل و مشکلات کا حل موجود ہے. یاد رکھیے! اسلامی نظام اس کی تعلیمات کوئی ناقص و
محدود نہیں کہ جس پر عمل پیرا ہونے کے لیے معاشرے سے کٹنا پڑے اور رہبانیت کی طرف
جانا پڑے ، ہمارے اسلاف نے سلطنتیں بنائیں، قاضی القضاۃ بنے، عہدے حاصل کیے اور
ساتھ ساتھ اپنے فرائض و واجبات بلکہ مستحبات کی رعایت بھی رکھی، وہ بیک وقت گورنری
کے فرائض بھی انجام دیتے اور خلق خدا کے اخلاق و اعمال کی بھی ایک داعی کی حیثیت
سے اصلاح کرتے۔ عصر حاضر میں علماء کا معاشرے سے کٹنا اور مساجد اور خانقاہوں تک
محدود ہوجانا امت کے لیے خصوصا نوجوان نسل کے لیے انتہائی مضر ہے. ایک ماہر طبیب
وہی ہے جو مرض کی تشخیص کی صلاحیت رکھتا ہو، علماء اس امت کے روحانی طبیب ہیں،
انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ نسل نو اس وقت کن روحانی امراض کا شکار ہے، وہ تشکیک،
الحاد، بے دینی اور مغربی تہذیب سے متاثر ہیں، جب تک علماء اور عوام میں فاصلے کم
نہیں ہوتے اس وقت تک معاشرے کی اصلاح ممکن نہیں۔
مفکراسلام سید ابوالحسن
ندوی رحمہ اللہ علماء سے خطاب کرتے ہوئے فرماتے ہیں : بھائی! اگر آپ کو ترمذی کی
شرح لکھنی ہو اور مشکوۃ کی شرح لکھنی ہو اور کسی فقہی مسئلہ پر بحث کرنا ہو، اس کو
آپ اردو میں لکھیے یا عربی میں لکھیے، اگر آپ کو عوام میں باتیں کرنی ہوں تو عوام
کی سطح پر بات کیجیے، میں آپ کو صاف کہتا ہوں کہ ہندوستان، پاکستان میں بہت کام
ہوچکا ہے، کتب حدیث کی شرحیں لکھی جاچکی ہیں، مذہب حنفی کو حدیث کے مطابق ثابت کیا
جاچکا ہے، اس کے لیے نئی بڑی کوشش کی ضرورت نہیں ہے. حضرت مولانا انور شاہ صاحب
اور حضرت مولانا ظہیر احسن نیموی یہ سب کام کرچکے ہیں، انہوں نے ثابت کردیا کہ یہ
دعوی ٰ کہ حنفی حدیث کے خلاف کہتے ہیں، غلط ہے، اور ان سے پہلے طحاوی نے معانی
الاثار میں، زیلعی نے احادیث ہدایہ کی تخریج نصب الرایۃ میں اور دوسرے حضرات نے
بھی یہ کام بڑے اعلیٰ پیمانے پر کیا ہے. اب نیا میدان ہے جس کی طرف آپ کو توجہ کی
ضرورت ہے، وہ یہ کہ عوام آپ کے اثر سے نکلنے نہ پائیں، وہ آپ کو یہ نہ سمجھیں کہ
آپ اس ملک میں رہ کر کے بھی غیر ملکی اور پردیسی ہیں، آپ کو تو اس ملک کے ساتھ
اپنے آپ کو وابستہ کرنا چاہیے ۔ یقینا سوچنے اور سمجھنےکی بات ہے کہ امت کے نوجوان
الحاد اور تشکیک جیسے مہلک روحانی امراض کا شکار ہوں اور علماء فروعی مسائل پر بحث
و تکرار میں مصروف ہوں۔
لہذا ہمیں کچھ لائحہ
عمل تیار کرنے ہوں گے تاکہ ہمارے مدارس اپنے جامع وہمہ جہت مقاصدِدینیہ کو پوری
کرنے میں مکمل طور پر کامیاب ہوں۔ اس کے لئے چند طریقہء کارپیش کئے جاتے ہیں۔
1.
ہر مدرسہ اپنے بجٹ کا
کم سے کم بیس فیصد حصہ علاقے میں مکاتب قائم کرنے، اگرپہلے سے موجود ہوں تو اسے
متحرک کرنے،منظم کرنے اور جائزہ لینے میں صرف کرے۔
2.
اصلاح معاشرہ کے
لئے علاقے کے ہر محلے میں ہر سال چھوٹے
چھوٹے اجلاس کریں جسمیں عورتوں کے لئے
یاتو مستقل پروگرام ہو اور علما پردے سے بیان کریں یا ایک ہی اجلاس میں عورتوں کے بیان سننے کا
مستقل انتظام ہوں اور عورتوں سے متعلق مسائل وبچوں کی تربیت وغیرہ کو موضوع بنایا
جائے۔
3.
علاقے
کی مساجد میں کم سے کم ہفتہ واری تفسیر کا
نظم کیا جائے جس میں مدرسے کے اساتذہ کو متعین کیا جائے۔
4.
سال میں ایک بار مدرسے
میں علاقے کے لوگوں کے لئے کوئی ایک پروگرام رکھا جائے جس طریقے سے دارالعلوم
دیوبند میں غلہ اسکیم کا اجلاس ہوتاہے
جسمیں مختلف معاشرتی م برائی کی
بیخ کنی ، اسلامی ماحول قائم کرنے ، خاندانی نظام کو مضبوط
کرنے وغیرہ کو بیان کا موضوع بنایا جائے اسے مدرسے سے بھی علاقہ کے لوگوں کا تعلق
مضبوط ہو گا اور ان کا اعتماد بحال ہوگا۔
5.
اسکول کے بچوں کے لئے
ایک مہنیہ کا قلیل مدتی ایک دینی کورس تیار کیا جائے جو گرمی کی چھٹیوں میں
چلاجائے جس میں اسلام کی بنیادی تعلیمات، عقائد، عبادات، اخلاقیات وضو، غسل ،نماز و روزے کے مسائل ، روز مرہ کی
سنتیں اور دعا وغیرہ کی تعلیم دی جائے ۔اور باضابطہ کورس کے اختتام پہ امتحان کا
نظم ہو اور انہیں سرٹیفیکٹ بھی دی جائے تاکہ بچوں کی دلچسپی باقی رہے۔اس کورس میں
معمولی فیس بھی رکھی جائے اور کللاس شروع ہونے سے پہلے پمفلٹ اور سوشل میڈیا کے
ذریعے اس کورس کی اہمت خوب بتلائی جائے۔
* استاذو مفتی ،
مرکزالمعارف، ممبئی
No comments:
Post a Comment