Tuesday, 22 November 2016

حرمت مصاہرت ---مولاناحبیب الرحمن اعظمی، استاذ دارالعلوم دیوبند

حرمت مصاہرت
حبیب الرحمن اعظمی

دنیا کے مذاہب میں اسلام ہی ایک ایسا مذہب ہے جس کی تعلیمات و ہدایات انسانی زندگی کے تمام گوشوں کا احاطہ کئے ہوئے ہیں، مرد اور عورت کا باہمی جنسی تعلق جو ایک فطری و طبعی عمل ہے اسلام، زندگی کے اس مرحلہ میں بھی انسان کو آزاد نہیں چھوڑ دیتا کہ وہ جس طرح چاہے اور جس سے چاہے یہ رشتہ استوار کرلے اور خواہش کے مطابق جب چاہے ناطہ توڑلے بلکہ اسلام میں اس کا ایک مکمل نظام ہے جس میں پوری وضاحت سے بتایاگیا ہے کہ اس رشتہ کو کس طرح جوڑا جائے اور اگر کسی ناگزیر مجبوری کی بنا پر اس رشتہ کو باقی نہیں رکھا جاسکتا تو اسے کیسے ختم کیا جائے۔ نیز پوری تفصیل کے ساتھ یہ بھی متعین کردیاگیا ہے کہ زندگی کی رہ گزر میں انسانی فطرت کے مطابق کسے رفیق سفر بنایا جاسکتا ہے اور کسے نہیں، ان ساری تفصیلات کے مجموعہ کو آج کی اصطلاح میں ”اسلام کا ازدواجی نظام“ سے تعبیر کیا جاتا ہے اوراس کے الگ الگ شعبہ اور حصہ کو نظام نکاح، نظام طلاق، اور نظام حرمت کا عنوان بھی دیا جاسکتا ہے۔ آج کی صحبت میں ازدواجی نظام کے آخری شعبہ یعنی نظام حرمت پر ہم اپنے قارئین سے کچھ گفتگو کرنا چاہتے ہیں۔
اس بات سے کون واقف نہیں کہ ہماری معاشرتی زندگی گوناگوں رشتوں اور قرابتوں کے گرد گھومتی ہے اور ہر فرد بشر ان رشتوں کی زنجیر میں جکڑا ہوا ہے۔ جن کا پاس و لحاظ انسانی فطرت کا خاصہ ہے، ایک سلیم الفطرت انسان کے لئے یہ ممکن نہیں کہ وہ انھیں یکسر نظر انداز کردے، فطرت انسانی یہ بھی جانتی و مانتی ہے کہ ان رشتوں میں بعض رشتے ایسے ہیں جو اپنے اندر ایسا تقدس اور عزت و احترام کا پہلو رکھتے ہیں کہ طبع سلیم ایسے اہل قرابت اور رشتہ داروں سے ازدواجی اور جنسی تعلق کو گوارا نہیں کرتی اور اسے انسانی شرافت ہی نہیں بلکہ خود انسانیت کے منافی باور کرتی ہے۔
چنانچہ اسلام نے آدمی کی اصل فطرت سے ہم آہنگ اس کے صالح جذبات کی رعایت ملحوظ رکھتے ہوئے اس شعبہ سے متعلق ایسا قانون اور ضابطہٴ عمل وضع کیا ہے کہ اگر علم و انصاف کی نظر سے دیکھا جائے تو اس اعتراف میں ادنیٰ تردد نہیں ہوگا کہ اس باب میں اس سے جامع اور بہتر قانون سے دنیائے انسانیت نا آشنا ہے۔
محرمات کی تفصیل
جن قرابت داروں سے ازدواجی تعلق قائم کرنا اسلام کی نظر میں ممنوع اورحرام ہے انہیں تین حصوں میں تقسیم کیاگیاہے۔
(۱)    محرمات نسبیة             (۲)         محرمات رضاعیة         (۳)         محرمات بالمصاہرت
(۱) محرمات نسبیة : یعنی جن عورتوں سے نسبی رشتہ ہے ان میں حسب تصریح قرآن حکیم سات رشتہ کی عورتیں ایسی ہیں کہ ان کے رشتہ کے احترام میں ان سے ازدواجی تعلق قائم کرنا ممنوع اور حرام ہیں۔ یہ سات عورتیں یہ ہیں:
(۱) مائیں۔( اس میں سب اصول آگئے یعنی ماں کی ماں نانی پرنانی وغیرہ)
 (۲) بیٹیاں (ان میں سب فروع داخل ہیں، یعنی لڑکی کی لڑکی وغیرہ نیچے تک)
(۳) بہنیں (خواہ سگی ہوں یا باپ شریک یا ماں شریک)
(۴) پھوپیاں (اس میں باپ اور باپ سے اوپر دادا وغیرہ کی تینوں قسموں کی بہنیں داخل ہیں)
(۵) خالائیں (اس میں ماں اور ماں سے اوپر نانی وغیرہ کی تینوں قسموں کی بہنیں آگئیں)
(۶) بھتیجیاں (تینوں قسموں یعنی سگے، علاتی یا اخیافی بھائیوں کی اولاد در اولاد سب شامل ہیں)
(۷) بھانجیاں (اس میں بھی تینوں قسموں کی بہنوں کی اولاد بواسطہ و بلا واسطہ سب آگئیں)۔
اس بات سے کسے انکار ہوسکتا ہے کہ اوپر مذکور ایسے محترم خونی رشتوں سے متصف عورتیں ہیں جن سے کوئی صحیح الدماغ، سلیم الفطرت ازدواجی تعلق قائم کرنے کا تصور بھی نہیں کرسکتا۔ ذرا سوچئے کوئی بیٹا، اپنی ماں کو باپ اپنی بیٹی کو بیوی بنانے پر آمادہ ہوسکتا ہے،اسی پر بقیہ مذکورہ رشتوں کا قیاس کیا جاسکتا ہے۔
(۲) محرمات رضاعیہ : یعنی جن عورتوں نے دودھ پلایا ہے یہ عورتیں اگرچہ حقیقی مائیں نہیں ہیں مگر حرمتِ نکاح میں والدہ ہی کے حکم میں ہیں لہٰذا ماں کی طرح اپنی اَنّا سے بھی نکاح کرنا حرام ہے۔ یہاں یہ بات ملحوظ رہنی چاہئے کہ یہ نکاح کی حرمت اسی وقت ثابت ہوگی جبکہ بچپن میں جو دودھ پینے کا زمانہ ہوتا ہے اس میں پیا ہو، اور دودھ شریک بہنوں سے بھی نکاح حرام ہے (یعنی جن کی حقیقی یا رضاعی ماں کا تم نے دودھ پیا ہے وہ تمہاری رضاعی بہنیں ہوجائیں گی ان سے بھی سگی بہن کی طرح نکاح ہمیشہ کے لئے حرام ہوگا) قرآن پاک میں تو صرف رضاعی ماں، بہن ہی کا ذکر ہے، لیکن جس طرح نسبی رشتہ کی سات عورتوں سے (جن کا ذکر اوپر آچکا ہے) نکاح ہمیشہ کے لئے حرام ہے اسی طرح رضاعی رشتہ کی بھی سات قسم کی عورتوں سے نکاح ممنوع ہوگا۔ نبیٴ پاک  صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے : ”یحرم من الرضاعة ما یحرم من النسب“ یعنی دودھ پینے کے رشتہ سے وہ سب عورتیں حرام ہوجاتی ہیں جو نسبی رشتہ کی بناء پر حرام ہیں۔
(۳) حرمت بالمصاہرت : یعنی سسرالی رشتہ کی بناء پر نکاح کی حرمت، قرآن نے اس سلسلہ کی چار عورتوں کا ذکر کیا ہے:
(۱) باپ کی بیوی یعنی سوتیلی ماں۔
(۲) بیٹے کی بیوی یعنی بہو، بیٹے کے ساتھ ”مِنْ اَصَلاَبِکُمْ“ کی قید سے لے پالک کی بیویاں اس حکم سے نکل گئیں لہٰذا ان سے نکاح جائز ہوگا۔
(۳) بیوی کی ماں یعنی خوشدامن (اس حکم میں بیوی کے سب موٴنث اصول یعنی بیوی کی دادی وغیرہ شامل ہیں)
(۴) اس بیوی کی بیٹی جس سے ہمبستری ہوچکی ہے، یعنی کسی عورت سے صرف نکاح کرلینے سے اسکی لڑکی سے نکاح حرام نہیں ہوگا بلکہ اس سے صحبت بھی ہوجائے تب اسکی لڑکی حرام ہوگی۔
نسب، رضاعت (دودھ پینا) اور مصاہرت (سسرالی رشتہ) کی بنیاد پر ثابت حرمت دائمی ہے جو کبھی ختم نہیں ہوگی، ان تینوں قسم کی حرمت میں تمام فقہاء محدثین اور اہل سنت والجماعت کااتفاق ہے۔
حرمت بالمصاہرت کی تفصیل میں دو نقطئہ نظر
البتہ فقہائے اسلام کا مصاہرت کی بناء پر حرمت کی تفصیل میں نقطئہ نظر مختلف ہے۔ ایک جماعت کی رائے یہ ہے کہ ناجائز و حرام صحبت یعنی زنا سے بھی یہ حرمت ثابت ہوجائے گی اور جس عورت سے یہ حرام کاری کی گئی ہے اس کے اصول و فروع یعنی مائیں اور بیٹیاں زانی پر ہمیشہ کے لئے حرام ہوجائیں گی ان سے ازدواجی تعلق قائم کرنا صحیح نہ ہوگا، جبکہ دوسری جماعت کی رائے یہ ہے کہ زنا سے یہ حرمت ثابت نہیں ہوگی۔ ائمہ اربعہ میں امام اعظم ابوحنیفہ، امام احمد بن حنبل پہلی رائے کے قائل ہیں، اور امام مالک و امام شافعی دوسری رائے کو مانتے ہیں۔(۱)
اختلاف کی بنیاد
اس اختلاف کی بنیاد دراصل سورہٴ نساء آیت ۲۲ ”وَلاَ تَنْکِحُوا مَا نَکَحَ آبَاءُ کُمْ مِنَ النِّسَاءِ“ (اور نکاح نہ کرو ان عورتوں سے جن سے تمہارے باپ دادا نے نکاح کیا ہے) میں وارد لفظ ”نکاح“ کے لغوی معنی کے فہم میں اختلاف پر ہے۔ جن فقہاء و محدثین کے نزدیک زنا سے حرمت ثابت ہوجاتی ہے وہ کہتے ہیں کہ ”نکاح“ کا اصلی معنی ازروئے لغت وطی یعنی ہمبستری ہے، عقد معنی مجازی ہے اور جو حضرات فقہاء اس حرمت کے قائل نہیں ان کے نزدیک نکاح کا اصلی و حقیقی معنی ”عقد“ ہے اور وطی اس کا معنی مجازی ہے۔ لہٰذا جن حضرات فقہاء کے نزدیک نکاح کا اصلی معنی وطی ہے وہ کہتے ہیں کہ وطی جس صورت میں بھی پائی جائے چاہے نکاح کے ساتھ یا بغیر نکاح کے حرمت ثابت ہوجائے گی۔ اور جن حضرات کے نزدیک عقد کے معنی میں ہے ان کے نزدیک نکاح کے ساتھ جو وطی ہوگی اسی سے حرمت ثابت ہوگی۔
لفظ نکاح کی معنوی تحقیق
خود اہل لغت کا اس کے اصلی معنی کے متعین کرنے میں اختلاف ہے بقدر ضرورت اس اختلاف کی تفصیل ملاحظہ کی جائے۔
(۱) حافظ بدرالدین عینی حنفی عمدة القاری شرح بخاری میں لکھتے ہیں:
قال الازہری اصل النکاح فی کلام العرب الوط ء وقیل للتزویج نکاح لانہ سبب الوط ء
وقال الزجاجی : ”ہو فی کلام العرب الوط ء والعقد جمیعًا ․․․ وحقیقتہ عند الفقہاء علی ثلاثة اوجہ حکاہا القاضی حسین اصحہا انہ حقیقة فی العقد مجاز فی الوطیٴ وہو الذی صحہ ابوالطیب وبہ قطع المتولی وغیرہ، الثانی انہ حقیقة فی الوطیٴ مجاز فی العقد وبہ قال ابوحنیفة، والثالث انہ حقیقة فیہما بالاشتراک“ (ج:۲۰، ص: ۶۴)
امام لغت ازہری کہتے ہیں کہ کلام عرب میں نکاح کا اصلی معنی ”وطی“ ہے عقد تزویج کو نکاح اس لئے کہا جاتا ہے یہ عقد، وطی کا سبب اور ذریعہ ہے۔ اور امام لغت زجاجی کہتے ہیں کہ کلام عرب میں لفظ نکاح، وطی اور عقد دونوں معنی میں مشترک ہے، اور فقہاء کے یہاں اس لفظ کی حقیقت کے بارے میں تین اقوال ہیں جسے قاضی حسین نے نقل کیا ہے۔ (۱) صحیح تر یہ ہے کہ نکاح معنی عقد میں حقیقت اور معنی وطی میں مجاز ہے۔(۱) اسی قول کو امام ابوالطیب اور متولی وغیرہ فقہائے شافعیہ نے صحیح قرار دیا ہے۔ (۲) لفظ نکاح معنی وطی میں حقیقت اور معنی عقد میں مجاز ہے اسی کے امام ابوحنیفہ قائل ہیں، (۳) وطی اور عقد مشترک طور پر دونوں معنی میں حقیقت ہے۔
(۲) حافظ ابن حجر عسقلانی شافعی فتح الباری میں ان الفاظ میں اپنی تحقیق نقل کرتے ہیں:
”النکاح فی اللغة الضم والتداخل و تجوّز من قال انہ الضم، قال الفرّاء النُکح اسم للفرج ویجوز کسرہ، وکثر استعمالہ فی الوط ء و سمی بہ العقد لکونہ سببہ وقال ابوالقاسم الزجاجی ہو حقیقة فیہما وفی الشرع حقیقة فی العقد، مجاز فی العقد علی الصحیح ․․․ وفی وجہ للشافعیة کقول الحنفیة انہ حقیقة فی الوطء ومجاز فی العقد“ (ج:۹، ص: ۱۲۸)
نکاح لغت میں چپکنے اور ایک دوسرے میں داخل ہونے کے معنی میں ہے۔ جن حضرات نے نکاح کو ضم یعنی ملنے کے معنی میں لیا ہے انھوں نے مجاز کو اختیار کیا ہے، امام نحو و لغت فرّا کا بیان ہے لفظ نُکّحَ کااصلی معنی شرمگاہ کے ہیں، وطی کے معنی کا کثرت سے استعمال ہوتا ہے۔ نکاح کو عقد اس لئے کہا جاتا ہے کہ عقد، وطی کا ذریعہ و سبب ہے۔ اور ابوالقاسم زجاجی نے کہا کہ عقد اور وطی مشترک طور پر اس کے دونوں معنی اصلی و حقیقی ہیں،اور شرعی(۲) اصطلاح میں صحیح قول کے مطابق عقد اس کا معنی حقیقی اور وطی معنی مجازی ہے، اور فقہائے شافعیہ کے یہاں ایک قول امام ابوحنیفہ کی تحقیق کے مطابق ہے۔ یعنی یہ لفظ معنی وطی میں حقیقی اور معنی عقد میں مجازی ہے۔
(۳) حافظ ابوالعباس القرطبی مالکی اپنی معروف محققانہ تصنیف ”المفہم“ شرح تلخیص صحیح مسلم میں لکھتے ہیں:
”حقیقة النکاح الوط ء ․․․ وقد اشتہر اطلاقہ علی العقد“ (ج:۴، ص: ۸۰)
وطی نکاح کا اصلی معنی ہے اور عقد میں بھی اس کا بولا جانا مشہور ہے۔
مشہور لغوی عالم ناصرالدین المطرزی لکھتے ہیں:
اصل النکاح الوطء ․․․ ثم قیل للتزوج نکاح مجازا لانہ سبب للوطء المباح (المُغرِب ج:۲، ص: ۲۲۶) نکاح کااصلی معنی وطی ہے پھر شادی کرنے کے معنی میں مجازا استعمال ہونے لگا کیونکہ یہی شادی وطی مباح یعنی جائز ہمبستری کا سبب اور ذریعہ ہے۔
علامہ مجدالدین فیروز آبادی اللغوی القاموس میں لکھتے ہیں:
النکاح، الوطء والعقد لہ، نکاح کا لفظ وطی اور عقد نکاح کے معنی میں ہے۔ موصوف کی تعبیر سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ دونوں معنی میں اسے مشترک مانتے ہیں۔
فقہ اور اصول کے مشہور امام ابوبکر جصاص رازی حنفی اپنی محققانہ تصنیف احکام القرآن میں لکھتے ہیں:
اخبرنا ابوعمر (الزاہد) غلام ثعلب قال : الذی حصلناہ عن ثعلب عن الکوفیین والمبرد عن البصریین ان النکاح فی اصل اللغة ہو اسم للجمع بین الشیئین․․․ والجمع انما یکون بالوطء دون العقد اذالعقد لا یقع بہ جمع لانہ قول منہما جمیعًا لایقتضی جمعًا فی الحقیقة ثبت ان اسم النکاح حقیقة فی الوطء مجاز للعقد ، والعقد انما سمی نکاحاً لانہ سبب یتوصل بہ الی الوطء ․( مطبوعہ داراحیاء التراث العربی، بیروت ۱۴۱۲ھ، ص: ۴۹-۵۰)
ہم سے الشیخ الزاہد ابوعمر ملقب بہ غلام ثعلب نے بیان کیا کہ ہمیں ثعلب کے واسطہ کوفیوں کی اور مبرّد کے بالواسطہ بصریوں کی جو رائے معلوم ہوئی وہ یہ ہے کہ لفظ نکاح اہل لغت میں دو چیزوں کے باہم ملنے کے معنی میں ہے․․․ اور یہ معنی وطی اور ہم بستری میں پایا جاتا ہے عقد میں نہیں کیونکہ نفس عقد سے جمع و ضم (باہم ملنے) کا وقوع و ثبوت نہیں ہوتا اس لئے کہ عقد تو زوجین کا قول ہے (یعنی زوجین کا ایجاب و قبول کے الفاظ کا زبان سے ادا کرنے کو عقد کہا جاتا ہے) جو درحقیقت جمع کو چاہتا ہی نہیں(۱) لہٰذا ثابت ہوا کہ اسم نکاح معنی وطی میں حقیقت اور معنی عقد میں مجاز ہے، عقد کو نکاح محض اس بناء پر کہا جاتا ہے کہ یہ وطی تک پہنچنے کا (ایک جائز) وسیلہ و ذریعہ ہے۔
نکاح کے لغوی معنی کی اس تفصیل سے ان لوگوں کے قول کی وجاہت و قوت کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا جو کہتے ہیں کہ لفظ نکاح کی حقیقت لغویہ وطی ہے اور عقد و تزویج اس کا معنی مجازی ہے۔ بایں ہمہ اس بات سے بھی انکار مبنی بر انصاف نہیں ہوگا کہ اس لفظ کا معنی مجازی یعنی عقد اس کے معنی اصلی یعنی وطی کے مقابلہ میں کتاب و سنت اور کلام شریعت میں کثیر الاستعمال اور زیادہ مشہور ہے، لیکن اس کثرت و شہرت کی بناء پر یہ دعویٰ کرنا بھی صحیح نہیں ہوگا کہ قرآن و حدیث میں لفظ نکاح صرف عقد اور تزویج کے معنی ہی میں استعمال کیاگیا ہے کیونکہ محققین علمائے تفسیر کے بیان سے واضح ہوتا ہے کہ قرآن مجید کی متعدد آیات میں یہ لفظ اپنے اصلی معنی وطی ہی میں مستعمل ہوا ہے، چنانچہ امام تفسیر ابوعبداللہ محمد بن احمد القرطبی اپنی نہایت مفید قابل فخر کتاب ”الجامع لاحکام القرآن“ میں سورئہ بقرہ آیت ۲۳۰ کی تفسیر کے تحت لکھتے ہیں کہ نحاس نے اپنی کتاب ”معانی القرآن“ میں لکھا ہے:
قال : واہل العلم علی ان النکاح ہاہنا الجماع، لانہ قال ”زَوْجاً غَیْرَہ“ فقد تقدمت الزوجیة فصار النکاح الجماع، الا سعید بن جبیر فانہ قال النکاح ہٰہنا التزویج الصحیح اذا لم یرد احلالہا․ (ج:۳، ص: ۱۴۸، مطبوعہ احیاء التراث العربی بیروت)
نحاس کا بیان ہے کہ اہل علم کااس پر اتفاق ہے کہ لفظ نکاح اس آیت میں جماع یعنی ہمبستری کے معنی میں ہے اس لئے کہ آیت میں ”زَوْجًاغَیْرَہ“ فرمایا گیا ہے جس سے معلوم ہوا کہ عقد و تزویج تو پہلے ہوچکا ہے لہٰذا نکاح وطی اور صحبت کے معنی میں ہوگا، البتہ سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ نکاح بیان تزویج صحیح کے معنی میں ہے، جبکہ یہ تزویج و عقد عورت کو پہلے شوہر کے لئے حلال کی نیت سے نہ ہو۔
امام فخرالدین رازی اسی آیت کے تحت لکھتے ہیں:
اختلف العلماء فی ان شرط الوطء بالسنة او بالکتاب، قال ابومسلم الاصفہانی الامران معلومان بالکتاب وہذا ہو المختار․․․ فقولہ ”تنکح“ یدل علی الوطء وقولہ زوجاً یدل علی العقد، واما من یقول ان الآیة غیر دالة علی الوطء وانما ثبت الوطء بالسنة فضعیف․ (تفسیر کبیر، ج:۶، ص: ۱۱۲، مطبوعہ الاعلام الاسلامیہ ۱۳۱۳ھ)
علماء کا اس بارے میں اختلاف ہے کہ (جس عورت کو اس کے شوہر نے تین طلاقیں دیدیں اس طلاق دینے والے کے نکاح میں دوبارہ آنے کے لئے کسی اور شخص سے شادی کے بعد ہمبستری کرنے کی جو شرط ہے یہ) شرط حدیث سے ثابت ہے، یا قرآن سے ،ابومسلم اصفہانی کا قول ہے کہ شادی اور ہمبستری دونوں قرآن سے ثابت ہیں۔ یہی قول مختار ہے․․․ (اپنے معروف اسلوب برہان ولیل کے ساتھ ابومسلم کے قول مختار و راجح ثابت کرنے کے بعد بطور خلاصہ کلام لکھتے ہیں) لہٰذا اللہ تعالیٰ کا قول ”تنکح“ وطی و ہمبستری پر دلالت کررہا ہے اور ”زوجاً“ کا فرمان عقد و تزویج کے معنی کو بیان کررہا ہے، اور جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ آیت وطی کے معنی کو بیان نہیں کررہی بلکہ وطی کی شرط کا ثبوت حدیث سے ہے ان کا یہ قول ضعیف ہے۔
عصر حاضر کے معروف مفسر شیخ محمد علی صابونی لکھتے ہیں:
وذہب جمہور العلماء والائمة الاربعة المجتہدون الی ان المراد فی قولہ تعالیٰ ”حَتّٰی تَنْکِحَ زَوْجاً غَیْرَہ“ الوطء لا العقد فلا تحل للزوج الاول حتیٰ یطأہا الزوج الثانی فقد وضّحت السنة المطہرة ان المراد من لفظ النکاح فی الآیة الکریمة ہو الجماع لا العقد“ (الردائع البیان فی تفسیر آیات الاحکام، ج:۱، ص: ۳۳۹)
جمہور علماء اور چاروں ائمہ مجتہدین اس طرف گئے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد ”حَتّٰی تَنْکِحَ زَوْجاً غَیْرَہ“ میں تنکح سے مراد وطی ہے عقد نہیں لہٰذا (مطلقہٴ ثلاثہ) سے جب تک دوسرا شوہر وطی نہ کرے پہلے شوہر کے لئے حلال نہیں ہوگی اور حدیث پاک نے وضاحت کردی کہ آیت کریمہ میں لفظ نکاح سے مراد ہمبستری ہے، عقد نکاح نہیں۔
علاوہ ازیں سورئہ نساء آیت ۶ ”حَتّٰی اِذَا بَلَغُوْا النِکَاحَ“ میں سارے مفسرین و فقہاء نکاح کو حلم یعنی احتلام کے معنی میں لیتے ہیں اور کون نہیں جانتا کہ سونے والا جب خواب میں صورة وطی کو دیکھتا ہے تو اسے احتلام پیش آتا ہے۔ اس آیت میں عقد نکاح کا معنی کسی کے نزدیک بھی صحیح نہیں ہے۔
حدیث پاک میں بھی لفظ نکاح ”وطی“ کے معنی میں استعمال ہوا ہے چنانچہ مشہور حدیث ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ولدت من نکاح لا من سفاح“ میں نکاح حلال سے پیدا ہوا ہوں نکاح حرام سے نہیں۔ اس حدیث سے ایک بات تو یہ ثابت ہوتی ہے کہ لفظ نکاح عقد کے معنی میں بھی بولاجاتاہے اور دوسری بات یہ معلوم ہوئی کہ لفظ نکاح ”وطی بغیر عقد“ یعنی عقد نکاح کے بغیر ہمبستری پر بھی بولا جاتا ہے۔ اگر اس لفظ میں یہ مفہوم نہ ہوتا تو آپ صرف فرماتے ”ولدت من نکاح“ لیکن نکاح کے بعد آپ کا ”لا من سفاح“ فرمانا بتا رہا ہے کہ یہ لفظ ”وطی حرام“ پر بھی بولا جاتا ہے ورنہ اس لفظ کے زیادہ کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔
اسی طرح حائض عورت (ماہواری والی) سے متعلق ایک شرعی حکم کے بیان میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”یحل للرجل من امرأتہ الحائض کل شيء الا النکاح“ اپنی حائض بیوی سے مرد کو ہر چیز حلال ہے سوائے نکاح یعنی وطی کے۔
حدیث و قرآن کے علاوہ عرب کے جاہلی شعراء کے کلام میں بھی لفظ نکاح ہمبستری کے معنی میں کثرت سے استعمال ہوا ہے اگر طوالت اور ناظرین کی عدم دلچسپی کا اندیشہ نہ ہوتا تو اس کے بھی شواہد پیش کئے جاسکتے تھے۔
مسئلہ زیر بحث کا اصل مستدل
اس مذکورہ تفصیل سے یہ بات اچھی طرح سامنے آگئی کہ نکاح کا لفظ کلام عرب بالخصوص قرآن وحدیث میں عورت کے ساتھ ہمبستری اور صحبت کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ خواہ یہ ہمبستری عقد نکاح کے ساتھ ہو یا بغیر عقد کے، اور اوپر مذکور علمائے لغت اور شارحین حدیث کی عبارتوں سے یہ بھی معلوم ہوچکا ہے کہ ازروئے لغت کلام عرب میں اس لفظ کا اصلی و حقیقی معنی ”وطی“ اور ہمبستری ہے، تو سورئہ نساء کی آیت ۲۲ ”وَلاَ تَنْکِحُوْا مَا نَکَحَ آبَاءَ کُمْ مِن النِسَاءِ“ سے حرمت مصاہرت بالزنا (یعنی زنا سے حرمت مصاہرت کے ثبوت) پر استدلال میں کیا تردد ہوسکتا ہے؟ بلاشبہ یہ استدلال اصول فقہ اور عربیت کے موافق بے غبار ہے (یہ الگ بات ہے کہ حضرت امام مالک اور حضرت امام شافعی رحمہما اللہ نے اپنے ذوق اجتہاد سے یہاں بھی ”نکاح“ کو عقد و تزویج کے معنی پر محمول کیاہے جس کی گنجائش سے مطلقاً انکار نہیں کیا جاسکتا ہے) چنانچہ مشہور ظاہری امام حافظ ابن حزم اس استدلال کی ترجمانی کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
قول اللّٰہ عزّ وجلّ ”وَلاَ تَنْکِحُوا مَا نَکَحَ آبَاءُ کُمْ مِنَ النِسَاءِ“
قال ابو محمد : النکاح فی اللغة التی نزل بہا القرآن یقع علی شیئین، احدہما الوطء کیف کان بحرام او بحلال والآخر العقد، فلا یجوز تخصیص بدعوی بغیر نص من اللّٰہ تعالیٰ او من رسولہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم فای نکاح نکح الرجل المرأة حرة او امة بحلال او حرام فہی حرام علی ولدہ بنص القرآن ․․․ وہذا قول ابی حنیفة و جماعة من السلف (المحلّٰی کتاب النکاح، ج۱۱، ص: ۷۹ رقم المسئلة ۱۸۶۶)
ابومحمد (یہ ابن حزم کی کنیت ہے) کہتا ہے نکاح لغت میں جس کے مطابق قرآن نازل ہوا ہے دو معنوں پر واقع ہوا ہے اول ”وطی“ جیسے بھی ہو حرام طریقے پر یا حلال طریقے پر، اور دوسرا عقد، لہٰذا لفظ نکاح میں تخصیص کا دعوی اللہ اور رسول اللہ کی نص کے بغیر صحیح نہیں ہوگا۔ لہٰذا مرد کسی عورت کے ساتھ جس نوع کا بھی نکاح کرلے (خواہ نکاح وطی یا نکاح عقد) عورت خواہ آزاد ہو یا باندی حلال طور پر یا حرام طور سے یہ عورت مرد کے لڑکے پر بنص قرآن حرام ہوجائے گی یہی امام ابوحنیفہ اور سلف کی ایک جماعت کا قول ہے۔
پھر اس جماعت سلف میں سے حضرت عبداللہ بن عباس، مجاہد، ابراہیم نخعی، ابن مغفل، عکرمہ، شعبی، سعید بن المسیب، ابی سلمہ بن عبدالرحمن بن عوف، عروہ بن زبیر، اور سفیان ثوری کے آثار و اقوال نقل کئے ہیں جو آئندہ سطور میں مسئلہ زیربحث سے متعلق احادیث و آثار کے ضمن میں انشاء اللہ پیش کئے جائیں گے۔
حافظ ابوالفرج ابن الجوزی حنبلی لکھتے ہیں:
الزنا یثبت تحریم المصاہرت، واصحابنا یستدلون بقولہ تعالیٰ ”وَلاَ تَنْکِحُوْا مَا نَکَحَ آبَاءُ کُمْ“ والنکاح حقیقة فی الوطء“ (تنقیح تحقیق احادیث التعلیق للحافظ ابن عبدالہادی، ج:۳، ص: ۱۸۰)
زنا حرمت مصاہرت کو ثابت کردیتا ہے، ہمارے علمائے مذہب اس مسئلہ پر اللہ تعالیٰ کے فرمان ”وَلاَ تَنْکِحُوْا مَا نَکَحَ“ سے استدلال کرتے ہیں، اور وطی لفظ نکاح کی حقیقت لغویہ ہے۔ (اس جملہ سے موصوف نے طریق استدلال کی جانب اشارہ کیا ہے)
محقق ابن قدامہ اپنی عظیم المرتبت تصنیف المغنی میں لکھتے ہیں:
۵۳۵۵ - مسئلة : و وطء الحرام محرم کما یحرم وطء الحلال والشبہة 
یعنی انہ یثبت بہ تحریم المصاہرت فاذا زنیٰ بامرأة حرمت علی ابیہ وابنہ و حرمت علیہ امہا و ابنتہا کما لو وطہا بشبہة و حلالا، ولو وطی ام امرأتہ او بنتہا حرمت علیہ امرأتہ نص احمد علی ہذا فی روایة جماعة و روی نحو ذلک عن عمران بن حصین رضی اللہ عنہ، و بہ قال الحسن و عطاء و طاوٴس و مجاہد والشعبی، والنخعی، واسحاق واصحاب الراے وروی عن ابن عباس ان وطء الحرام لا یحرم، و بہ قال سعید بن المسیب، ویحییٰ بن یعمر، وعروة، والزہری، ومالک، والشافعی، وابوثور، وابن المنذر لما روی عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم انہ قال: ”لا یحرم الحرامُ الحلالَ“ ولانہ وطء لا تصیر بہ الموطوة فراشا فلا یحرم کوطء الصغیرہ“
ولنا قولہ تعالیٰ ”وَلاَ تَنْکِحُوْا مَا نَکَحَ آبَاءُ کُمْ من النساء“ والوطء یسمّٰی نکاحا ․․․ فحمل فی عموم الآیة وفی الآیة قرینة تصرفہ الی الوطء وہو قولہ سبحانہ تعالیٰ ”اِنَّہ کَانَ فَاحِشَةً وَمَقْتًا وَ سَاءَ سَبِیْلاً“ وہذا التغلیظ انما یکون فی الوطء الخ (ج:۷، ص: ۹۰)
حرام وطی یعنی زنا وغیرہ حرام کردیتا ہے جس طرح وطی حلال اور وطی بالشبہ حرام کردیتی ہیں (یعنی جس طرح منکوحہ یا شبہ سے غیر منکوحہ کے ساتھ ہمبستری سے حرمت مصاہرت ثابت ہوجاتی ہے اسی طرح زنا سے بھی اس کا ثبوت ہوجاتا ہے)
لہٰذا جب کوئی شخص کسی عورت سے حرام کاری کرے گا تو یہ عورت اس مرد کے باپ اور بیٹے پر حرام ہوجائے گی اور خود اس شخص پر مزنیہ عورت کی ماں اور بیٹی حرام ہوجائیں گی، جیسے کہ اشتباہ کی بناء پرغیر بیوی سے یا خود اپنی بیوی سے ہمبستری کرنے سے حرمت مصاہرت کا ثبوت ہوجاتا ہے، نیز اگر کسی نے اپنی بیوی کی ماں یعنی ساس، یا بیوی کی بیٹی سے صحبت کرلی تو اس کی بیوی اس پر حرام ہوجائے گی۔ ایک جماعت کی روایت کے مطابق امام احمد بن حنبل نے اس مسئلہ کو صراحت کے ساتھ بیان کیا ہے۔ صحابی رسول عمران بن حصین سے بھی یہی قول مروی ہے اور یہی قول امام حسن بصری، عطاء بن ابی رباح، طاؤس، مجاہد، شعبی، ابراہیم نخعی، اسحاق بن راہویہ اور فقہائے احناف کا ہے۔
اور حضرت ابن عباس رضی اللہ سے یہ بات روایت کی جاتی ہے کہ وطی حرام سے حرمت ثابت نہیں ہوتی، اور یہی حضرت سعید بن المسیب، یحییٰ بن یعمر، عروة بن زبیر، زہری، امام مالک و امام شافعی، ابوثور اور ابن المنذر رحمہم اللہ کا قول ہے۔ اس حدیث کی بنیاد پر جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی گئی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”لا یحرم الحرام الحلال“(۱) حرام ، حلال کو حرام نہیں کرتا۔
اور ہماری دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے : ”وَلاَ تَنْکِحُوْا مَا نَکَحَ اَبَاءُ کُمْ مِنَ النِّسَاءِ“ اورنکاح نہ کرو ان عورتوں سے جن سے تمہارے باپ دادا نے نکاح کیاہے، اور وطی کو(لغة) نکاح کہا جاتا ہے لہٰذا آیت کے عموم میں وطی بھی شامل ہوگی۔
پھر آیت میں ایسا قرینہ بھی موجود ہے جو نکاح کو معنی وطی کی جانب پھیرتا ہے اور یہ قرینہ اللہ عز و جل کا یہ قول ہے ”اِنّہ کان فَاحِشَةً وَمَقْتًا وَسَاءَ سَبِیْلاً“ یہ بدکاری اور ناراضگی کا کام ہے اور بدترین طریق عمل ہے (یعنی باپ دادا کی منکوحہ عورتوں سے نکاح عقل، شرع اور عرف پر اعتبار سے ناپسندیدہ و ممنوع ہے) اس طرح کی شدت مذمت ان مذکورہ عورتوں کے ساتھ وطی کی بناء پر ہی ہوگی محض عقد نکاح اس تغلیظ و تشدید کا متقاضی نہیں۔
معروف صاحب نظر و فہم فقیہ و محدث ابوبکر جصاص رازی لکھتے ہیں:
فوجب اذا کان علی ما وصفنا ان یحمل قولہ تعالیٰ ”وَلاَ تَنْکِحُوْا مَا نَکَحَ آبَائُکُمْ مِنَ النِسَاءِ“ علی الوطء فاقتضیٰ ذلک تحریم من وطیہا ابوہ من النساء علیہ لانہ لما ثبت ان النکاح اسم للوطء لم یختص ذلک بالمباح منہ دون المحظور کالضرب، والقتل والوطء نفسہ لا یختص عند الاطلاق بالمباح منہ دون المحظور بل ہو علی الامرین حتی تقوم الدلالة علی تخصیصہ الخ (احکام القرآن، ج:۳، ص:۵۱)
(اس بحث و تحقیق کے بعد کی لفظ نکاح کا از روئے لغت عربی اصلی و حقیقی معنی وطی ہے) تو جب ہماری بحث سے ثابت ہوگیا کہ نکاح کا حقیقی معنی یہی ہے تو ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فرمان ”وَلاَ تَنْکِحُوْا الآیة“ کو وطی پر محمول کیا جائے اور اس معنی کا یہ مقتضی ہے کہ وہ عورتیں بیٹے پر حرام ہوجائیں جن سے اس کے باپ نے وطی کی ہے، کیونکہ جب یہ ثابت ہوگیا کہ نکاح، مطلق وطی کا نام ہے تو یہ معنی وطی ممنوع کو نظر انداز کرکے صرف مباح کے ساتھ خاص نہیں ہوگا جیسے لفظ ضرب اور قتل۔ جائز و ناجائز دونوں طرح کی ضرب و قتل پر بولا جاتا ہے، اور خود لفظ وطی مطلق بولا جاتا ہے تو جب تک کہ کسی معنی کے ساتھ خاص ہونے کی دلیل نہیں پائی جاتی تو کسی ایک نوع کے ساتھ مختص ہونے کے بجائے دونوں طرح کی وطی پر صادق آتا ہے۔
علامہ ابن حزم، امام ابن الجوزی، محقق ابن قدامہ اور فقیہ النفس جصاص رازی رحمہم اللہ کے یہ واضح بیانات بتارہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے فرمان بالا کی رو سے حرام کاری اور صحبت ناجائز سے بھی حرمت مصاہرت کا ثبوت ہوجاتا ہے۔
رسالہ کی تنگ دامانی کی بناء پر انھیں گذارشات کے ساتھ آج کی مجلس برخاست کی جارہی ہے ، انشاء اللہ آئندہ اشاعت میں زیر بحث مسئلہ کی تائید میں احادیث و آثار وغیرہا پیش کئے جائیں گے۔
$ $ $

حرمت مصاہرت
(۲)
حبیب الرحمن اعظمی

احادیث و آثار
عن ابی ہانی قال : قال رسول اللہ  صلی اللہ  علیہ وسلم : من نظر الی فرج امرأة لم تحل لہ امّہا ولا ابنتہا  (مصنف ابن ابی شیبة کتاب النکاح، الرجل یقع علی ام امرأتہ، ج:۳، ص: ۳۰۴) ورجالہ ثقات مشہورون (۱)
ترجمہ: ابوہانی (حمید بن ہانی) سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے کسی عورت کی شرمگاہ پر نظر ڈالی تو اس کیلئے نہ اس عورت کی ماں حلال ہوگی نہ اسکی بیٹی۔ (یعنی اس دیکھنے کی وجہ سے اس عورت کی ماں اور بیٹی سے اس مرد کے لئے نکاح کرنا حرام ہوجائے گا، چونکہ حدیث میں نظر حلال و نظر حرام کی تفصیل نہیں بیان کی گئی ہے اس لئے یہ حکم دونوں طرح کی نظر کو شامل ہوگا اور جب نظر سے حرمت کا ثبوت ہوجاتا ہے تو ہمبستری سے بدرجہ اولیٰ ثابت ہوجائے گی۔
اس حدیث کی تائید درج ذیل احادیث صحیحہ سے بھی ہوتی ہے۔
(الف) عن ابی ہریرة (رضی اللہ عنہ) قال: قال رسول اللہ  صلی اللہ  علیہ وسلم: لم یتکلم فی المہد الا ثلاثة، عیسی بن مریم، قال : وکان فی بنی اسرائیل رجل عابد یقال لہ جُریج، فابتنی صومعة و تعبد فیہا، قال : فذکر بنو اسرائیل عبادة جریج فقالت بغی منہم : لئن شئتم لاَفتننہ، فقالوا: قد شئنا ذاک، قال: فاتتہ فتعرضت لہ، فلم یلتفت الیہا، فامکنت نفسہا من راع کان یوٴوی غنمہ الی اصل صومعة جریج فحملت فولدت غلاماً فقالوا ممن ؟ قالت من جریج، فاتوہ فاستنزلوہ فشتموہ وضربوہ وہدموا صومعتہ، فقال: ما شأنکم ؟ قالوا: انک زینت بہذہ البغی فولدت غلامًا، فقال این ہو؟ فقالوا ہو ہذا، قال فقام فصلی و دعا ثم انصرف الی الغلام فطعنہ فقال: باللہ  یا غلام من ابوک؟ فقال ابن الراعی، فوثبوا الی جریج فجعلوا یقبلونہ، وقالوا: نبنی صومعتک من ذہب، قال: لا حاجة لی ذلک انبوہا من طین کما کانت  الحدیث (فتح الباری، ج:۶، ص: ۵۸۹ والمفہم لما اشکل من تلخیص کتاب مسلم، ج:۶، ص: ۵۱۱، ومسند احمد واللفظ لہ)
ترجمہ: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا گود کی عمر میں (یقینی طور پر) صرف تین بچوں نے گفتگو کی ہے۔ ایک حضرت عیسیٰ بن مریم علیہما السلام، بعد ازاں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بنی اسرائیل میں ایک عبادت گذار شخص تھا جس کا نام جریج تھا اس نے ایک عبادت خانہ بنایاتھا جس میں مصروف عبادت رہتا، ایک دن بنی اسرائیل نے جریج کی عبادت کا (بطور تعریف کے) ذکر کیا تو ایک بدکار عورت نے کہا اگر تم لوگ چاہو تو میں اسے اپنے دام گناہ میں پھانس لوں، لوگوں نے کہا ایسا کرلو، چنانچہ وہ جریج کے پاس آئی اور اپنے کو انھیں پیش کیا، مگر انھوں نے اس کی جانب کوئی توجہ نہیں کی، (ان کے پاس سے نامراد ہوکر واپس ہوئی تو) ایک چرواہے سے (جو جریج کے عبادت خانہ کے پاس اپنی بکریاں رکھتا تھا) بدکاری کرایا جس سے اس کو حمل ہوگیا، (مدت حمل پوری ہوجانے پر) اس نے ایک بچہ کو جنم دیا، لوگوں نے اس سے پوچھا یہ کس کا بچہ ہے تو اس نے کہا جریج کا، (یہ سن کر وہ لوگ جریج پر بہت برافروختہ ہوئے) اور ان کے پاس آکر عبادت خانہ سے انھیں نیچے لائے اور انھیں برابھلا کہا اور زد و کوب بھی کیا، نیز ان کے عبادت خانہ کو بھی ڈھادیا، (جریج نے ان کے اشتعال کو دیکھ کر) پوچھا آخر ماجرا کیا ہے تو لوگوں نے کہا تم نے اس فاحشہ سے بدکاری کی ہے (اور تمہارے نطفہ سے) اس نے ایک بچہ کو جنم دیا ہے، جریج نے پوچھا وہ بچہ کہاں ہے، لوگوں نے اسے پیش کردیا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (یہ صورت حال دیکھ کر جریج اپنے رب کی جانب متوجہ ہوئے) نماز نفل پڑھی اور اللہ تعالیٰ سے دعا کی پھر بچے کے پاس آئے اوراس کے شکم میں انگلی سے چونکتے ہوئے کہا بخدا بتاؤ تم کس کے بیٹے ہو، بچہ نے جواب دیا میں چرواہے کا بیٹا ہوں (جریج کی اس کرامت سے ان کی پاک دامنی کا یقین آجانے پر) وہ سب تیزی سے جریج کی جانب لپکے (اور فرط عقیدت میں) انھیں بوسہ دینا شروع کردیا اور بولے ہم آپ کے عبادت خانہ کو سونے کا بنائیں گے۔ جریج نے کہا مجھے سونے کے معبد کی کوئی ضرورت نہیں اسے مٹی کا جیسے پہلے تھا بنادو الخ۔
اس حدیث پاک کے جملہ ”یا غلام من ابوک ؟ قال فلان الراعی“ کے تحت حافظ ابوالعباس القرطبی لکھتے ہیں کہ (بعض علمائے مالکیہ) نے اس سے زنا کے ذریعہ حرمت مصاہرت کے مسئلہ پر استدلال کیا ہے اور صورت استدلال کی ان لفظوں میں وضاحت کی ہے۔
یتمسک بہ من قال ان الزنی یحرّم کما یُحرّم الوطء الحلال، فلا تحلُّ ام المزنی بہا ولا بناتہا للزانی، ولا تحل المزنی بہا لآباء الزانی ولا لاولادہ ․․․ ووجہ التمسک : ان النبی صلی اللہ  علیہ وسلم قد حکی عن جریج انہ نسب ابن الزانی للزانی، وصدّق اللہ  نسبتہ بما خرق لہ العادة فی نطق الصبیٴ بالشہادة لہ بذلک، فقد صدّق اللہ  جریجاً فی تلک النسبة واخبربہا النبی صلی اللہ  علیہ وسلم عن جریج فی معرض المدح لجریج واظہار کرامتہ فکانت تلک النسبة صحیحة بتصدیق اللہ  وباخبار النبی صلی اللہ  علیہ وسلم عن ذلک فثبت البنوَّة والابوة واحکامہا الخ (المفہم شرح تلخیص صحیح مسلم، ج:۶، ص: ۵۱۴)
اس جملہ سے ان علماء نے استدلال کیا ہے جو اس کے قائل ہیں کہ زنا سے بھی وطی حلال کی طرح حرمت کا ثبوت ہوجاتا ہے، لہٰذا جس عورت سے یہ حرام کاری کی گئی ہے اس کی ماں اور بیٹی، مرد زانی پر حرام ہوجائے گی، اور خود یہ عورت زانی کے باپ اور اولاد کے لئے حلال نہ ہوگی۔
استدلال (اور دلیل پکڑنے) کی صورت یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جریج عابد کی یہ بات نقل فرمائی کہ انھوں نے ولدالزنا (یعنی زانی کے بیٹے کو) زانی کی جانب منسوب کیا اور اللہ تعالیٰ نے خلاف عادت اس گود کے بچے سے زبانی شہادت دلاکر اس نسبت کی تصدیق کردی، لہٰذا جب اللہ تعالیٰ نے بچے کی زانی کی جانب نسبت میں جریج کی سچائی کو صحیح بتادیا اور اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جریج کی تعریف اور ان کی کرامت کے اظہار کے طور پر اسے بیان فرمایا تو اللہ تعالیٰ کی تصدیق اور نبی علیہ الصلوٰة والسلام کے اس بیان سے یہ نسبت صحیح ہوگئی تو زانی اور ولدالزنا کے درمیان باپ، بیٹا ہونے کا رشتہ اور رشتہ کے احکام ثابت ہوجائیں گے۔ (البتہ وراثت اور وَلاء کے احکام کا اس سے باجماع امت ثبوت نہیں ہوگا، جیسا کہ حافظ قرطبی نے آخر میں اس کی وضاحت کردی ہے)۔
معروف مفسر علامہ ابوعبداللہ القرطبی نے اپنی بینظیر تفسیر الجامع لاحکام القرآن، ج:۵، ص: ۱۱۵، اور حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہما اللہ نے فتح الباری، ج:۶، ص: ۵۹۷ میں بھی اس استدلال کا تفصیل سے ذکر کیا ہے اور اس پرکوئی نقد نہیں کیا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ استدلال ان کے نزدیک بھی درست ہے۔
(ب) عن عائشة رضی اللہ عنہا انہا قالت : اختصم سعد بن ابی وقاص و عبد بن زمعة فی غلام، فقال سعد : ہذا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  ابن اخی عتبة بن ابی وقاص عہد الیّ انہ ابنہ انظر الی شبہہ، وقال عبد بن زمعة ہذا اخی یا رسول اللہ صلی اللہ  علیہ وسلم ولد علی فراش ابی من ولیدتہ، فنظر رسول اللہ  الی شبہہ فرأی شبہاً بینًا بعتبة، فقال: ہولک یا عبد الولد للفراش وللعاہر الحجر، واحتجبی منہ یا سودة بنت زمعة ! قالت فلم یر سودة قط․(صحیح مسلم، ج:۱، ص: ۴۷۰ مع شرح النووی)
ترجمہ: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انھوں نے کہا! سعد بن ابی وقاص اور عبد بن زمعہ نے ایک غلام کے بارے میں مقدمہ پیش کیا، سعد نے اپنا دعویٰ پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ غلام میرے بھائی عتبہ بن ابی وقاص کا بیٹا ہے اس نے مجھے وصیت کی تھی یہ اسی کا بیٹا ہے، یا رسول اللہ اس کے حلیہ کو دیکھئے، اور عبد بن زمعہ نے اپنے حق کے ثبوت میں عرض کیا کہ یا رسول اللہ (…) یہ میرا بھائی ہے یہ میرے باپ کی ہمبسترباندی سے پیدا ہوا ہے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس غلام کے حلیہ کو دیکھا تو وہ واضح طور پر عتبہ کے ہم شکل تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے عبد (بن زمعہ) یہ تمہارا ہی بھائی ہے (کیونکہ اسلامی اصول کے مطابق) لڑکا ہمبسترہی کا ہوگا اور زانی کیلئے تو خسرانِ محض ہے۔ اور ام الموٴمنین سودة بنت زمعہ سے فرمایا اے سودة اس غلام سے پردہ کرو، حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ اسکے بعد سودة نے اس غلام کو کبھی نہیں دیکھا۔
اس حدیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان ”احتجبی منہ یا سودة“ کے تحت امام خطابی لکھتے ہیں : ”(فیہ) حجة لمن ذہب الی ان من فجر بامرأة حرمت علی اولادہ والیہ ذہب اہل الرأی وسفیان الثوری والاوزاعی واحمد، لانہ لما رأی الشبہ بعتبة علم انہ من مائہ فاجراہ فی التحریم مجری النسب وامرہا باحتجاب منہ (معالم السنن، ج:۳، ص: ۱۸۲ مطبوعة دارالمعرفة بیروت مع مختصر سنن ابی داوٴد للمنذری)
اس میں ان لوگوں کی حجت و دلیل ہے جو اس جانب گئے ہیں کہ جس شخص نے کسی عورت سے بدکاری کی تو یہ عورت اس بدکار کی اولاد پر حرام ہوجائے گی، یہی اہل الرائے، سفیان ثوری، الاوزاعی اور احمد بن حنبل کا مسلک ہے۔ کیونکہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے (اس غلام میں) عتبہ بن ابی وقاص کی شباہت دیکھی تو آپ کو علم ہوگیا کہ یہ عتبہ کے نطفہ سے ہے تو اس نطفہٴ حرام کو ثبوت حرمت میں نسب کا ہم درجہ ٹھہراتے ہوئے حضرت سودة رضی اللہ عنہا کو حکم دیا کہ اس سے پردہ کرو۔
حافظ الدنیا ابن حجر عسقلانی اس استدلال کو ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں:
واستدل بہ علی ان لوطء الزنا حکم وطء الحلال فی حرمة المصاہرت وہو قول الجمہور، ووجہ الدلالة امر سودة بالاحتجاب بعد الحکم بانہ اخوہا لاجل الشبہ بالزانی (فتح الباری، ج:۱۲، ص: ۴۳ مطبوعہ قدیمی کتبخانہ آرام باغ کراچی)
 اس سے اس بات پر استدلال کیاگیا ہے کہ حرمت مصاہرت کے اثبات میں وطی حرام، حلال وطی کے حکم میں ہے، یہی جمہور کا قول ہے۔
اس فیصلہ کے بعد کہ یہ غلام حضرت سودہ کا بھائی ہے آپ نے انھیں حکم دیا کہ اس غلام سے پردہ کریں کیونکہ وہ زانی کے ہم شکل تھا۔ صاحب المنہل اس استدلال کی وضاحت یوں کرتے ہیں:
دل قولہ صلی اللہ  علیہ وسلم : ”واحتجبی منہ یا سودة“ علی ان من زنی بامرأة حرمت علی اصولہ و فروعہ وحرم علیہ اصل مزنیتہ وفرعہا لان کل تحریم تعلق بالوطء الحلال یتعلق بالوطء الحرام، واللمس بشہوة باحدہما ولو بحائل وجد معہ حرارة الملموس سواء اکان عمدا ام سہوا ام خطاء ام کرہا یوجب حرمة المصاہرة کالنکاح، لانہ من دواعی الوطء، وبہذا قال جمہور الصحابة والتابعین والحنفیون وسفیان الثوری، والاوزاعی واحمد، لان النبی صلی اللّہ علیہ وسلم لما رأی الشبہ بعتبة علم انہ من مائہ فاجراہ فی التحریم مجری النسب وامرہا بالاحتجاب منہ․(فتح الملک المعبود تکملة المنہل العذب المورود شرح سنن الامام ابی داوٴد، ج:۴، ص: ۲۸۱، مطبوعة موسسة التاریخ العربی بیروت ۱۳۹۴ھ/۱۹۷۴ء)
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ”اے سودة اس سے پردہ کرو“ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ جو شخص کسی عورت سے زنا کرے گا تو یہ عورت اس زانی کے اصول و فروع (یعنی باپ دادا اور اولاد در اولاد) پر حرام ہوجائے گی اوراس مزنیہ کے اصول و فروع اس مرد زانی پر حرام ہوجائیں گے، اس لئے کہ وطی حلال سے جو حرمت متعلق ہوتی ہے وہ وطی حرام سے بھی متعلق ہوتی ہے اور شہوت کے ساتھ چھونا اگرچہ اسے حائل کے ساتھ کہ ملموس (جسے چھویا جائے) کے جسم کی گرمی محسوس ہو یہ شہوت سے چھونا قصدا ہو یا سہواً غلطی سے یا بزور و زبردستی ان سب سے نکاح کی طرح حرمت مصاہرت کا ثبوت ہوجائے گا، کیونکہ یہ سب باتیں وطی کے اسباب میں داخل ہیں۔ جمہور صحابہ، تابعین، احناف، امام سفیان ثوری(۲) امام اوزاعی اور امام احمد بن حنبل (وغیرہ) اسی کے قائل ہیں۔
(۱)    اثر عبداللہ بن مسعود: عن عبداللہ  قال : لا ینظر اللہ  الی رجل نظر الی فرج امرأة وابنتہا“ (مصنف ابن ابی شیبہ، ج:۳، ص: ۳۰۴ باب الرجل یقع علی ام امرأتہ)
ترجمہ: حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : اللہ تعالیٰ ایسے شخص کی جانب نہیں دیکھیں گے جس نے کسی عورت کی فرج کو دیکھا پھر اس عورت کی بیٹی کی فرج کو بھی دیکھا۔ (یہ اثر بھی مطلق ہے جس میں نگاہِ حلال و حرام دونوں داخل ہیں)
امام بیہقی اس اثر کو ذکر کرنے کے بعد رقمطراز ہیں:
”ہذا ایضا ضعیف، قال ابوالحسن الدارقطنی ہذا موقوف ولیث وحماد ضعیفان“ (السنن الکبری، ج:۷، ص: ۱۷۰)
اس اثر کے راوی درج ذیل ہیں:
۱حفص بن غیاث، ۲ لیث بن ابی سلیم، ۳ حماد بن ابی سلیمان شیخ امام ابی حنیفہ، ۴ابراہیم نخعی، ۵ علقمہ۔ ان پانچوں میں ۱، ۴، ۵ متفق علیہ ثقہ ہیں اور شیخین ہی نہیں بلکہ محدثین کی پوری جماعت ان سے روایت کرتی ہے۔ ۲ اور ۳ پر امام دارقطنی نے ضعف کی جرح کی ہے اسی بناء پر امام بیہقی اس اثر کو ضعیف بتارہے ہیں۔
بلاشبہ علمائے جرح و تعدیل کی ایک جماعت نے سیٴ الحفظ ہونے کی بناء پر ان کی تضعیف کی ہے، لیکن اسی کے ساتھ ائمہ رجال میں سے ایک جماعت انھیں جائز الحدیث و لا بأس بھی کہتی ہے۔ ذیل میں ان کے بارے میں بعض اصحاب جرح و تعدیل کے تبصرے ملاحظہ کیجئے۔
امام ذہبی لکھتے ہیں:
”فیہ ضعف یسیر من سوء حفظہ کان ذا صلاة وصیام وعلم کثیر وبعضہم احتج بہ“ (الکاشف، ج:۲، ص: ۱۵۱)
ان میں سوء حفظ کی بناء پر تھوڑا سا ضعف ہے۔ یہ عبادت گذار اور علم کثیر سے متصف تھے، بعض محدثین ان سے احتجاج کرتے ہیں۔ امام موصوف میزان الاعتدال میں لکھتے ہیں:
اللیث بن ابی سلیم الکوفی احد العلماء، قال احمد مضطرب الحدیث ولکن حدث عنہ الناس، وقال یحییٰ والنسائی ضعیف، وقال ابن معین لابأس بہ․․․ حدث عنہ شعبة، ابن علیة، وابومعاویة والناس (ج:۳، ص: ۴۲۰-۴۲۱)
لیث بن ابی سلیم کوفی علمائے حدیث میں سے تھے، امام احمد ان کے بارے میں کہتے ہیں کہ یہ مضطرب الحدیث تھے پھر بھی محدثین ان سے روایت کرتے ہیں۔ امام شعبہ، ابن عُلیہ، ابومعاویة جیسے اکابر ائمہ اور عام محدثین ان سے روایت کرتے ہیں۔ تہذیب الکمال اوراس کے حاشیہ میں ان کے متعلق حسب ذیل نقد و تبصرہ نقل کیاگیا ہے۔
قال ابن عدی: لہ احادیث صالحة غیر ما ذکرت وقد روی عنہ شعبة، والثوری وغیرہما من ثقات الناس ومع الضعف الذی فیہ یکتب حدیثہ، وقال البرقانی سالت الدار قطنی عن لیث بن ابی سُلیم فقال: صاحب سنة یخرّج حدیثہ ثم قال انما انکروا علیہ الجمع بین عطاء، وطاوٴس، ومجاہد حسب، وقال العجلی: جائز الحدیث وقال مرة لابأس بہ استشہد بہ البخاری فی الصحیح، وروی لہ فی کتاب ”رفع الیدین فی الصلاة، وروی لہ مسلم مقرونا بابی اسحاق، وروی لہ الباقون (ج:۶، ص: ۱۹۱، رقم الترجمہ ۵۶۰۶)
ترجمہ: ابن عدی نے کہا میری ذکر کردہ روایتوں کے علاوہ ان سے صالح و درست احادیث بھی مروی ہیں، امام شعبہ، سفیان الثوری وغیرہ ثقہ لوگوں نے ان سے روایت کی ہے۔ ان میں موجود کمزوری کے باوجود ان کی حدیثیں لکھی جائیں گی۔ برقانی کہتے ہیں میں نے امام دارقطنی سے ان کے بارے میں پوچھا، تو فرمایا: صاحب سنة ہیں ان کی احادیث کی تخریج کی جائے گی۔ ان کا سند واحد میں عطاء، طاؤس اور مجاہد کا جمع کردینا ہی صرف ائمہ حدیث کے نزدیک منکر ہے۔
امام مزّی کہتے ہیں کہ امام بخاری نے صحیح میں ان سے استشہاد کیا ہے، اور اپنی کتاب ”جزء رفع الیدین فی الصلاة“ میں ان کی روایت نقل کی ہے، امام مسلم نے اپنی صحیح میں ابواسحاق سبیعی کے ساتھ ان کی حدیث بیان کی ہے، اور بقیہ اصحاب ستہ نے ان سے روایت کی تخریج کی ہے، علاوہ ازیں امام ترمذی، جامع ترمذی میں لکھتے ہیں:
قال محمد بن اسماعیل (یعنی البخاری) : لیث بن ابی سلیم صدوق ربما یہم فی الشیٴ امام بخاری فرماتے ہیں کہ لیث بن ابی سلیم صدوق ہیں البتہ کبھی کبھی بعض حدیثوں میں غلطی کرجاتے ہیں۔
حضرات ائمہ جرح وتعدیل کے ان اقوال کے پیش نظر ان کی روایت کو ضعیف کہہ کر مطلقاً رد کردینا تعنت و بیجا تشدد سے خالی نہیں، کیونکہ اس درجہ کا راوی بعض حضرات محدثین کے نزدیک (بدرجہ حسن الحدیث) لائق احتجاج ہوتا ہے۔ جیسا کہ امام ذہبی نے الکاشف میں اس کی صراحت کی ہے۔ اور جمہور محدثین کے نزدیک اگر اس کی روایت کا کوئی شاہد یا متابع مل جائے تو یہ روایت حسن کے مرتبہ میں پہنچ جائے گی اور لائق استدلال ہوگی، اور اوپر مذکور ابن ہانی کی مرسل حدیث بلاشبہ اس کی شاہد ہے۔ اس لئے امام بیہقی کا اسے ضعیف کہہ کر ناقابل استدلال ٹھہرانا ائمہ حدیث کے اصول اور تعامل کے خلاف ہے، جو لائق قبول نہیں۔
اور راوی ۳ یعنی حماد بن ابی سلیمان (جنھیں امام دارقطنی ضعیف بتارہے ہیں) کے بارے میں حضرات علمائے رجال کے اقوال ملاحظہ کیجئے اور پھر فیصلہ کیجئے کہ امام موصوف کی اس جرح مبہم میں کتنی جان ہے۔
حماد بن ابی سلیمان کے تذکرہ میں حافظ مزّی لکھتے ہیں:
قال اسحاق بن منصور انہ (ای یحیٰی بن معین) سئل عن مغیرة و حماد ایہما اثبت؟ قال حماد، وقال : حماد ثقة، وقال احمد بن حنبل حماد اصح حدیثا من ابی معشر، وقال العجلی: حماد بن ابی سلیمان کوفی ثقة، وقال النسائی: ثقة الا انہ مرجئی، وقال شعبة: کان صدوق اللسان (تہذیب الکمال، ج:۲، ص: ۲۸۳، رقم الترجمة ۱۴۶۷)
یحییٰ بن معین سے دریافت کیاگیا کہ مغیرہ (بن مقسم الکوفی) و حماد میں اثبت کون ہے؟ تو جواب دیا حماد اور یہ بھی کہا کہ حماد ثقہ ہیں۔ امام احمد بن حنبل نے فرمایا کہ ابو معشر (زیاد بن کلیب کوفی) کے مقابلہ میں حماد روایت حدیث میں زیادہ صحیح ہیں (زیاد بن کلیب ابومعشر کوفی کو حافظ نے تقریب، ص: ۲۲۰ میں ثقہ کہاہے اور امام ذہبی نے الکاشف، ج:۱، ص: ۴۱۲ میں حافظ متقن بتایا ہے اور مغیرہ (بن مِقسم کوفی کو امام ذہبی الکاشف، ج:۲، ص: ۱۳۳ میں ثقہ اور حافظ تقریب، ص: ۵۴۳ میں ثقہ متقن بتاتے ہیں(۳)، لہٰذا امام احمد اور یحییٰ بن معین کے نزدیک حفظ واتقان اور ثقاہت میں حماد بن ابی سلیمان مذکورہ دونوں بزرگوں سے فائق اور مقدم ہیں) اور امام عجلی نے کہا ہے کہ حماد بن ابی سلیمان کوفی، ثقہ ہیں، اور امام نسائی کہتے ہیں حماد ثقہ ہیں مگر مرجئی ہیں۔(۴)
امام ذہبی نے الکاشف میں ان کے متعلق اپنا یہ فیصلہ درج کیا ہے:
”ثقة، امام، مجتہد، کریم، جواد“ (ج:۱، ص: ۳۴۹ رقم الترجمہ ۱۲۲۱)
حماد بن ابی سلیمان، ثقہ، امام، مجتہد، کریم اور اعلیٰ درجہ کے سخی تھے۔
اوپر مذکور ائمہ رجال کے توثیقی اقوال اور امام ذہبی (جو بقول حافظ الدنیا ابن حجر عسقلانی رجال حدیث کے نقد و تحقیق میں استقراء تام کے مالک ہیں) کے اس دوٹوک فیصلہ کے بعد حماد بن ابی سلیمان کے ثقہ و ثبت ہونے میں کیا تردد ہوسکتا ہے؟ ہاں اس سے انکار نہیں کہ بعض ائمہ حدیث نے ان پر سوء حفظ وغیرہ کی جرحیں بھی کی ہیں مگر ان میں اکثر جرحیں بربنائے عقیدہ کی گئی ہیں جن کا محدثین کے یہاں اعتبار نہیں۔ چنانچہ تہذیب الکمال کے محقق و محشی علامہ بشار عوّاد ان جرحوں کے متعلق اپنے حاشیہ میں لکھتے ہیں۔
”انااخوف ما اکون ان یکون تضعیف بعض من ضعفہ انما ہو بسبب العقائد نسأل اللہ  العافیة، واحسن ما قیل فیہ عندی ہو قول النسائی ثقة الا انہ مرجئی“ (ج:۲، ص: ۲۸۴ تعلیقاً) مجھے اس بات کا بہت زیادہ اندیشہ ہے کہ بعض حضرات محدثین نے ان پر ضعیف ہونے کی جو جرحیں کی ہیں اس کا سبب عقائد ہوں، اللہ سے ہم عافیت کے طلب گار ہیں اور میرے نزدیک ان کے بارے میں جو کچھ کہا گیا ہے ان میں سب سے بہتر قول امام نسائی کا ہے کہ وہ ثقہ ہیں البتہ مرجئی ہیں (اور اس ارجاء کی حقیقت امام ذہبی نے واضح کردی ہے فتنبہ) لہٰذا امام دارقطنی اور امام بیہقی کی جلالتِ شان کے باوجود حماد بن ابی سلیمان کے بارے میں ان کی یہ رائے قبول نہیں کی جاسکتی اور بلاشبہ حضرت عبداللہ بن مسعود سے منقول یہ اثر حضرات محدثین کے مقررہ اصول کے لحاظ سے لائق احتجاج و استدلال ہے۔ واللہ اعلم بالصواب۔
(۲)   اثر عمران بن حصین رضی اللہ عنہ: عن قتادة عن عمران بن حصین فی الذی یزنی بام امرأتہ، قد حرمتا علیہ جمیعاً (مصنف عبدالرزاق، ج:۷، ص: ۲۰۰، الطبعة الاولیٰ ۱۳۹۲ھ / ۱۹۷۲ء، المجلس العلمی، ومصنف ابن ابی شیبة، ج:۳، ص: ۳۰۳ و ص : ۳۱۶ و”سندہ متصل صحیح“ فی باب الرجل یزنی باخت امرأتہ مطبوعہ دارالفکر پاکستان، صحیح بخاری تعلیقًا، فتح الباری، ج:۹، ص: ۱۹۱ و سنن الکبریٰ، ج:۷، ص: ۱۶۸)
صحابی رسول حضرت عمران بن حصین سے مروی ہے کہ انھوں نے فرمایا کہ جو شخص اپنی بیوی کی ماں (یعنی ساس) سے بدکاری کریگا تو اس پر دونوں (یعنی بیوی اور ساس) حرام ہوجائیں گی۔
حضرت عمران رضی اللہ عنہ سے منقول یہ اثر صحیح اور اپنے مفہوم میں بالکل واضح ہے اور جمہور محدثین و فقہاء کے نزدیک صحابی کا وہ قول جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان سے معارض نہ ہو حجت ہوتا ہے۔
(۴) و عن ابی ہریرة رضی اللہ  عنہ قال: لا تحرم علیہ حتی یلزق بالارض، یعنی حتی یجامع رواہ البخاری فی صحیحہ تعلیقًا (فتح الباری، ج:۹، ص: ۱۹۵، و عند المحدثین تعلیقات البخاری صحیحة)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ (جب تک کوئی شخص اپنی بیوی کی ماں کو) زمین پر نہیں لٹائے گا حرمت ثابت نہیں ہوگی۔
مطلب یہ ہے کہ حضرت ابوہریرہ بھی صورتِ مذکورہ میں حرمت کے قائل ہیں البتہ ان کے نزدیک یہ حرمت خاص زنا سے ثابت ہوگی۔ اسباب زنا سے نہیں۔ (اسباب زنا سے حرمت کے ثبوت پر ائمہ اربعہ متفق ہیں اور اس بارے میں ان کے پاس قوی دلائل موجود ہیں)
(۳)   اثر عبداللہ  بن عباس رضی اللہ عنہما: عن ابی نصر عن عبداللہ  بن عباس رضی اللہ عنہما ان رجلا قال: انہ اصاب ام امرأتہ، فقال لہ ابن عباس حرمت علیک امرأتک وذلک بعد ان ولدت منہ سبعة اولاد کلہم بلغ مبالغ الرجال (اخرجہ الامام سفیان الثوری فی جامعہ موصولا الی ابن عباس، کما قال الحافظ فی فتح الباری، ج:۹، ص: ۱۹۴، واخرجہ ایضا الامام محمد بن الحسن الشیبانی فی کتاب الحجج ص:۳۳۹ مطبوعہ انوار محمدی) والامام البخاری فی صحیحہ تعلیقا و ابن حزم فی المحلّٰی، ج:۱۱، ص: ۷۹ رقم االمسئلة ۱۸۶۶)
ترجمہ: حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ان سے ایک شخص نے عرض کیا کہ اس نے اپنی بیوی کی ماں سے مباشرت کی ہے تو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا تم پر تمہاری بیوی حرام ہوگئی جبکہ اس شخص کے اپنی بیوی سے سات لڑکے تھے اور یہ سب لڑکے جوان ہوگئے تھے۔
اس حدیث کو سفیان ثوری نے درج ذیل سند سے روایت کیا ہے:
(۱) سفیان عن الاغر بن الصباح المنقری، (۲) عن خلیفة بن الحصین، (۳)عن ابی نصر عن ابن عباس رضی اللہ  عنہ ․
(۱) الاغر بن الصباح کو ابوحاتم نے صالح اور یحییٰ بن معین نے ثقة کہا ہے (کتاب الجرح والتعدیل، ج:۲، ص: ۳۰۸-۳۰۹) اور امام ذہبی نے بھی ان کی توثیق کی ہے (الکاشف، ج:۱، ص: ۲۵۴)
(۲) دوسرے راوی خلیفہ بن الحصین کی امام نسائی نے توثیق کی ہے۔ نیز ابن القطان الفاسی، و ابن خلفون، اور حافظ ذہبی و حافظ ابن حجر وغیرہ بھی ان کی توثیق کرتے ہیں (تہذیب الکمال، ج:۲، ص: ۳۹۷ و تعلیقہ من العلامہ بشار عواد، رقم الترجمہ ۱۷۰۲)
(۳) اور تیسرے راوی ابو نصر الاسدی کی توثیق ابوزرعہ الرازی نے کی ہے (تہذیب الکمال، ج:۸، ص: ۴۴۱ و ۴۴۲ و تہذیب التہذیب، ج:۱۲، ص: ۲۳۰ و فتح الباری، ج:۹، ص: ۱۹۵) لہٰذا اس کی سندبے غبار صحیح ہے۔ البتہ امام بخاری رحمہ اللہ صحیح بخاری میں لکھتے ہیں ”وابو نصر ہذا لم یعرف بسماعہ من ابن عباس“ ان ابونصر کا سماع حضرت ابن عباس سے معروف نہیں ہے۔ مطلب یہ ہے کہ امام بخاری کے علم کے مطابق یہ اثر منقطع السند ہے لہٰذا لائق اعتماد نہیں۔
حافظ عینی، امام بخاری کے اس قول پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ”وعدم المعرفة بسماعہ عن ابن عباس ہو قول البخاری وعرفہ ابوزرعة بانہ اسدی وانہ ثقة وروی عن ابن عباس انہ سأل عن قول عز وجلّ ”والفجر ولیال عشر“ انتہیٰ، فان کانت الطریق الیہ صحیحة فہو یرد قول البخاری ولا شک ان عدم معرفة البخاری بسماعہ من ابن عباس لا تستلزم لنفی معرفة غیرہ بہ علی ان الاثبات اولیٰ من النفی (عمدة القاری، ج:۲۰، ص: ۱۰۳ مطبوعہ کراچی پاکستان) ابونصر کا حضرت ابن عباس سے براہ راست سماع کا معروف نہ ہونا یہ امام بخاری کا قول ہے، حالانکہ ابوزرعہ رازی ان کو پہچانتے ہیں کہ وہ قبیلہٴ اسد سے تعلق رکھتے ہیں اور ثقہ ہیں اور ابن عباس سے متعلق مروی ہے کہ ابونصر نے ان سے اللہ تعالیٰ کے ارشاد : ”والفجر ولیال عشر“ کی تفسیر پوچھی تھی، الخ ۔ اگر یہ روایت ان تک صحیح سند سے ثابت ہوجائے تو (ابونصر کا ابن عباس سے سماع ثابت ہوجائے گا) اور امام بخاری کے قول کی تردید ہوجائے گی۔ پھر اس میں کیا شک ہوسکتا ہے کہ ابن عباس سے سماع کو امام بخاری کا نہ جاننا دوسرے لوگوں کے اس سماع سے واقفیت کی نفی کو مستلزم نہیں (یعنی اگر امام بخاری اس سماع سے واقف نہیں ہیں تو اس سے یہ لازم نہیں ہوگا کہ دوسرے لوگ بھی اس سماع سے واقف نہ ہوں) علاوہ ازیں ازروئے اصول اثبات کو نفی پر ترجیح ہوا کرتی ہے۔
حافظ عینی نے اپنی اس تحریر میں ابونصر کے براہ راست حضرت ابن عباس سے حدیث سننے کی ایک دلیل کی جانب اشارہ کیا ہے کہ تفسیری روایت میں آیا ہے کہ ابونصر نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے ”والفجر ولیال عشر“ کا معنی پوچھا تھا، اگر صحیح سند سے اس روایت کا ثبوت ہوجائے تو یہ واضح اور روشن دلیل ہوگی کہ ابو نصر براہ راست حضرت عبداللہ بن عباس کے شاگرد ہیں اور بلا واسطہ ان سے حدیث کی سماعت کی ہے۔
اور تفسیر طبری میں امام ابن جریر طبری نے سورة الفجر کی تفسیر میں بسند صحیح اس روایت کو نقل کیا ہے دیکھئے جامع البیان لابن جریر طبری، ج:۱۵، ص: ۲۱۰۔ اس لئے بلا شبہ حضرت عبداللہ بن عباس کا یہ اثر صحیح و متصل سند کے ساتھ ثابت ہے اور اسے منقطع السند سمجھنا از روئے دلیل صحیح نہیں۔ اگرچہ حضرت ابن عباس سے اس کے خلاف قول بھی سند صحیح کے ساتھ منقول ہے جسے امام بخاری نے صحیح بخاری میں تعلیقا اور امام عبدالرزاق نے مصنّف میں مسندا ذکر کیا ہے۔
اقوال تابعین و اتباع تابعین:
(۱) عن ابن جریج قال سئل عطاء عن رجل کان یصیب امرأة سفاحًا اینکح ابنتہا؟ قال : لا، وقد اطلع علی فرج امہا، فقال انسان: الم یقال: ”لا یحرّم الحرام حلالاً“؟ قال: ذلک فی الامة کان یبغی بہا ثم یبتاعہا، او یبغی بالحرة ثم ینکحہا، فلا یحرم حینئذ کان صنع من ذلک (مصنف عبدالرزاق، ج:۷، ص: ۱۹۷-۱۹۸) بسند صحیح․
ترجمہ: ابن جریج بیان کرتے ہیں کہ عطاء بن ابی رباح سے پوچھا گیا کہ ایک شخص نے کسی عورت سے حرام کاری کی ہے تو کیا اس کو اس عورت کی لڑکی سے نکاح کرنا جائز ہوگا؟ تو انھوں نے کہا نہیں (کیونکہ) وہ اس کی ماں کی فرج تک پہنچ چکا ہے۔ (ان کے اس جواب پر ایک شخص نے یہ اشکال پیش کیا کہ) کیا یہ بات نہیں کہی جاتی کہ فعل حرام حلال کو حرام نہیں کرتا (حضرت ابن عباس سے بھی یہ منقول ہے) تو انھوں نے کہا اس قول کا مطلب یہ ہے کہ کسی نے ایک باندی سے حرام کاری کی پھر اسے خریدلیا، یا کسی آزاد عورت سے بدکاری کی پھر اس سے نکاح کرلیا تو باندی اور آزاد عورت کے ساتھ اس حرام کاری سے وہ باندی اور آزاد عورت اس پر حرام نہیں ہوں گی۔ باندی کو خرید سکتا ہے اور آزاد عورت سے نکاح کرسکتا ہے۔
یہ عطاء ابن رباح حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے بڑے شاگردوں میں ہیں اور حضرت ابن عباس وغیرہ سے مروی قول ”لا یحرم الحرام حلالاً“ کا یہ معنی بتارہے ہیں جس کا صاف مطلب یہی ہے کہ انھوں نے اپنے اساتذہ وغیرہ بزرگوں سے اس قول کا یہی معنی سمجھا تھا۔ اور اس معنی کی صورت میں حضرت عبداللہ بن عباس سے اوپر منقول قول اور اس قول میں تعارض بھی نہیں ہوگا اور ایک عالم اور صاحب عقل و فہم کی باتوں میں تعارض و اختلاف کا نہ پایا جانا ہی اصل ہے۔ ”فافہم وتشکر“
(۲) عن عمر و بن دینار انہ سأل عکرمة مولی ابن عباس رجل فجر بامرأة اَیصلح لہ ان یتزوج جاریة ارضعتہا ہی بعد ذلک قال: لا المحلیٰ لابن حزم، ج:۱۱، ص: ۸۰، رقم المسئلة ۱۸۶۶ و روی عبدالرزاق فی مصنفہ نحوہ، ج:۷، ص: ۲۰۰ (واسنادہ صحیح)
ترجمہ: مشہور تابعی عمروبن دینار مکی بیان کرتے ہیں کہ انھوں نے حضرت عبداللہ بن عباس کے آزاد کردہ غلام (اور ان کے شاگرد رشید) عکرمہ سے پوچھا کہ کسی شخص نے ایک عورت سے حرام کاری کی تو کیا اس کے لئے درست ہے کہ ایسی لڑکی سے نکاح کرے جسے اس عورت نے اس حرام کاری کے بعد دودھ پلایا ہے ، تو انھوں نے جواب دیا نہیں۔
(۳) عن عثمان بن الاسود عن مجاہد و عطاء قالا : اذا فجر الرجل بامرأة فانہا تحل لہ ولا یحل لہ شيء من بناتہا (مصنف ابن ابی شیبة، ج:۳، ص: ۳۰۴، واسنادہ صحیح)
ترجمہ: عثمان بن الاسود حضرت مجاہد اور عطاء سے روایت کرتے ہیں کہ ان دونوں بزرگوں نے فرمایا کہ جب کوئی شخص کسی عورت سے بدکاری کرے تو یہ عورت اس کے لئے حلال ہوگی (یعنی یہ شخص اس بدکاری کے بعد بھی اس سے نکاح کرسکتا ہے) اور اس عورت کی لڑکیاں اس کے لئے حلال نہیں ہوں گی۔
(۴) وروی ابن طاوٴس عن ابیہ فی الرجل کان یزنی بامرأة لاینکح امہا و ابنتہا․ (مصنف عبدالرزاق، ج:۷، ص: ۱۹۸ ”وسندہ صحیح“)
ترجمہ: عبداللہ بن طاؤس اپنے والد یعنی طاؤس سے روایت کرتے ہیں کہ انھوں نے اس شخص کے بارے میں فرمایا جس نے کسی عورت سے زنا کیا ہے کہ یہ شخص اس عورت کی ماں اور بیٹی سے نکاح نہیں کرسکتا۔
عطاء، عکرمہ، مجاہد اور طاؤس یہ چاروں حضرات عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے اجلّ تلامذہ اور خاص شاگردوں میں سے ہیں اور یہ چاروں باتفاق بیان کرتے ہیں کہ زنا سے حرمت مصاہرت ثابت ہوجائے گی جس سے صاف طور پر ظاہر ہوتا ہے کہ انھوں نے حضرت ابن عباس کے قول ”الحرام لا یحرم حلالاً“ کے بجائے ان کے اس قول کو ترجیح دیا ہے جو ابونصر اسدی ابن عباس سے روایت کرتے ہیں، جو اوپر مذکور ہوچکا ہے۔
(۵) عن یحییٰ بن ابی کثیر قال: سئل عروة بن الزبیر، وسعید بن المسیب، وابوسلمة بن عبدالرحمن وسالم بن عبداللہ عن رجل اصاب امرأة حراماً ہل یحل لہ نکاح امرأة ارضعتہا فقالوا کلہم: ہی حرام (رواہ الامام محمد بسند قوی فی کتاب الحج، ص: ۳۲۹ ورواہ الامام عبدالرزاق بسندہ فی مصنفہ، ج:۷، ص: ۱۹۸) عن عبداللہ بن یزید مولیٰ آل الاسود نحوہ وفی روایتہ ابوبکر بن عبدالرحمن بن الحارث بن ہشام بدل سالم بن عبداللہ وسندہ ایضاً صحیح ، وذکرہ ایضا الحافظ ابن حزم فی المحلّٰی، ج:۱۱، ص: ۷۹ وقال: ہو قول سفیان الثوری)
یحییٰ بن ابی کثیر کا بیان ہے کہ عروہ بن زبیر بن العوام سعید بن المسیب، ابوسلمہ بن عبدالرحمن بن عوف، اور سالم بن عبداللہ بن عمر بن الخطاب سے پوچھا گیا کہ ایک شخص نے کسی عورت سے زنا کیا تو کیا یہ مرد اس لڑکی سے نکاح کرسکتا ہے جس کو اس مزنیہ نے دودھ پلایا ہے تو سب نے کہا کہ یہ نکاح حرام ہوگا۔
اس روایت کو امام عبدالرزاق نے بھی مصنف میں اپنی سند سے بروایت عبداللہ بن یزید مولیٰ آل اسود ذکر کیاہے جس کا حاصل یہ ہوا کہ اس روایت کو دو ثقہ راوی بیان کرتے ہیں البتہ عبداللہ بن یزید کی روایت میں سالم بن عبداللہ کے بجائے ابوبکر بن عبدالرحمن بن الحارث بن ہشام کا نام ہے۔ یہ چاروں حضرات مدینہ منورہ کے ان سات فقہاء میں سے ہیں جن کی علمی جلالت شان کی ایک دنیا معترف ہے، اگرچہ ان مذکور فقہاء میں بعض سے اس کے مخالف قول بھی منقول ہے۔ واللہ اعلم بالصواب ۔
(۶) عن مغیرہ عن ابراہیم وعامر فی رجل وقع علی ابنة امرأتہ قالا: حرمتا علیہ کلتاہما، وقال ابراہیم: کانوا یقولون اذا اطلع الرجل علی المرأة علی مالا تحل لہ او لمسہا فقد حرمتا علیہ جمیعًا․ (مصنف ابن ابی شیبة، ج:۳، ص: ۳۰۴) وسندہ صحیح․
ترجمہ: مغیرہ بن مِقْسَم امام ابراہیم نخعی اور عامر شعبی سے نقل کرتے ہیں کہ ان دونوں بزرگوں نے فرمایا کہ جس شخص نے اپنی بیوی کی بیٹی سے حرام کاری کی تو بیٹی اور ماں دونوں اس پر حرام ہوجائیں گی۔ (یعنی ان دونوں میں سے کسی کو بھی اب نکاح میں نہیں رکھ سکتا) اور امام ابراہیم نخعی نے یہ بھی فرمایا کہ لوگ کہتے تھے کہ جس شخص نے کسی عورت کے ایسے حصہ کو دیکھا جسے دیکھنا اسے جائز نہیں یا شہوة سے اس پر ہاتھ پھیرا تو یہ عورت اور اس کی منکوحہ ماں دونوں اس مرد پر حرام ہوجائیں گی۔
امام ابراہیم نخعی (جوتابعی ہیں) فرمارہے ہیں کہ ”وکانوا یقولون“ لوگ کہتے تھے تو یہ کہنے والے ان کے زمانہ میں موجود کبار تابعین و صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین ہی ہونگے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس عہد کے عام تابعین اور صحابہ کا مذہب یہی تھا، امام محمد بن حسن شیبانی نے بھی کتاب الآثار میں بروایت امام ابوحنیفہ عن حماد (بن ابی سلیمان) حضرت ابراہیم نخعی کا یہ قول نقل کیا ہے کہ اذا قَبّل الرجل ام امرأتہ او لمسہا من شہوة حرمت علیہ امرأتہ“ قال محمد و بہ ناخذ وہو قول ابی حنیفة رحمہ اللہ  (کتاب الآثار مع التعلیق المختار، ص: ۲۶۴، رقم الاثر ۴۳۸ مطبوعہ الرحیم اکیڈمی کراچی ۱۴۱۰)
ترجمہ: امام ابراہیم نخعی نے فرمایا کہ جس نے اپنی بیوی کی ماں کا بوسہ لے لیا یا شہوة سے اس کو چھوا تو اس پر اس کی بیوی حرام ہوجائے گی اس اثر کو نقل کرنے کے بعد امام محمد رحمہ اللہ صراحت کرتے ہیں کہ اسی پر ہمارا عمل ہے اور یہی امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ بھی فرماتے ہیں۔
(۷) و عن ابن جریج وعن الحسن قالا: اذا زنی الرجل بام امرأتہ او ابنة امرأتہ حرمتا علیہ جمیعًا  (مصنف عبدالرزاق، ج:۷، ص: ۱۹۸ بسند صحیح)
ترجمہ: عبدالملک بن جریج (اتباع تابعین میں سے یہ وہ امام حدیث ہیں جنھوں نے حجاز میں سب سے پہلے حدیث میں کتاب تصنیف کی) اور امام حسن بصری دونوں کا قول ہے کہ جب کسی نے اپنی بیوی کی ماں سے یا بیوی کی بیٹی سے زنا کیا تو اس پر سب حرام ہوجائیں گی۔
(۸) ”عن قتادة قال یحییٰ بن یعمر: واللہ  ما حرّم حرامٌ حلالاً قط، قال لہ الشعبی: بل لو رضیت (والصواب لوصیت) خمرا علی ماء حرم شرب ذلک الماء، قال: وکان الحسن یقول مثل قول الشعبی“ (مصنف عبدالرزاق، ج:۷، ص: ۱۹۹ بسند صحیح و رواہ البیہقی بلفظ ”فبلغ ذلک الشعبی فقال لو اخذت کوزا من خمر فسکبتہ فی جب من ماء لکان ذلک الماء حرامًا“ سنن الکبری، ج:۷، ص: ۱۶۷)
ترجمہ: قتادہ روایت کرتے ہیں کہ یحییٰ بن یعمر (قاضی) نے کہا کہ بخدا حرام نے کبھی حلال کو حرام نہیں کیا، تو امام شعبی نے ان سے کہا اگر آپ شراب کو پانی میں ڈال دیں تو اس حلال پانی کا پینا حرام ہوجائے گا۔ قتادہ نے بتایا کہ امام حسن بصری بھی امام شعبی کے قول کے موافق تھے۔
حافظ بیہقی نے بھی امام شعبی کے اس اثر کو بایں الفاظ ذکر کیا ہے کہ یحییٰ بن یعمر کی یہ بات جب امام شعبی کو پہنچی تو اس کے جواب میں فرمایا کہ اگر تم ایک پیالی شراب پانی سے بھرے مٹکے میں ڈال دو تو یہ پانی حرام ہوجائے گا۔ (امام شعبی کے جواب کا حاصل یہ ہے کہ ”لا یحرم الحرام حلالاً“ کو عام معنی پر محمول کرنا درست نہیں ہے بلکہ دلائل کے تحت یہ خاص صورتوں پر محمول ہوگا)
(۹) عن الحکم بن عتیبة قال: قال ابراہیم النخعی: اذا کان الحلال یحرّم الحرام فلحرام اشد تحریماً  (المحلّٰی لابن حزم، ج:۱۱، ص: ۷۹)
ترجمہ: امام ابراہیم نخعی نے کہا جب حلال حرام کو حرام بنادیتا ہے تو حرام تو بدرجہٴ اولیٰ حرام کردے گا۔ مطلب یہ ہے کہ جب نکاح صحیح کے ذریعہ کسی عورت سے مباشرت کی تو اس عورت کی ماں و بیٹی اس مرد پر حرام ہوجائیں ، تو ناجائز مباشرت سے بدرجہ اولیٰ یہ حرمت ثابت ہوجائیگی)
(۱۰) ”عن الشعبی قال ما کان فی الحلال حراماً فہو فی الحرام حرام“ (مصنف عبدالرزاق، ج:۷، ص: ۲۰۰)
جو چیز حلال کے سبب حرام ہوجائے گی وہ حرام کے ذریعہ بھی حرام ہوگی۔
(۱۱) وعن عبداللہ  بن معقل بن مَقِّرن قال : ہی محرّم علیہ فی الحلال فکیف لاتحرم علیہ فی الحرام․ (مصنف عبدالرزاق، ج:۷، ص: ۲۰۰)
ترجمہ: عبداللہ بن معقل  (۵)نے کہا یہ (یعنی زوجہ کی ماں و بیٹی) جائز مباشرت سے مرد پر حرام ہوجاتی ہیں تو حرام وطی سے کیونکر حرام نہ ہونگی۔
تشریح: ان بزرگوں کے اقوال کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ”زنا“ کے معاملہ میں شدت اور سختی رکھی ہے، چنانچہ زانی کو بعض صورتوں میں پتھر مارمار کر ہلاک کردینے اور بعض دیگر صورتوں میں سوکوڑے مارنے کا حکم دیا۔ پھر اسی کے ساتھ اسے جہنم کی دھمکی بھی دی گئی۔ نیز اس فعل حرام سے پیدا اس کی اولاد کو اس کے نسبی رشتہ سے وابستہ کرنے سے بھی منع کردیا۔ یہ سب احکام دراصل زنا کی حرمت و قباحت میں شدت پیدا کرنے کیلئے ہی نافذ کئے گئے ہیں، لہٰذا اس معاملہ میں مذکورہ شدت کا تقاضا یہی ہے کہ جائز ہم بستری کے مقابلہ میں اس سے بدرجہٴ اولیٰ حرمت ثابت ہوجائیگی۔
اس ضابطہ کو مزید ذہن نشیں کرنے کیلئے اس مثال پر غور کیجئے کہ خداوند عالم نے حج بیت اللہ کا فریضہ ادا کرنے والوں پر ارکان حج کی ادائیگی سے پہلے بیوی سے ہمبستری کو حرام ٹھہرادیا ہے پھر اس حکم میں شدت پیدا کرنے کے لئے یہ فرمان صادر فرمایا کہ ۹/ذی الحجہ کو عرفہ میں جانے سے پہلے جو اپنی بیوی سے جنسی عمل کرے گا اس کا حج فاسد و اکارت ہوجائے گا، تو صورت مذکورہ میں زانی کے حج کے باطل و بیکار ہوجانے میں کسی ذی فہم کو کیا تردد ہوسکتا ہے۔ بعینہ اسی طرح جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے بعض رشتوں کی قدر و منزلت اجاگر کرنے اور انسانی دلوں میں ان کی طہارت و پاکیزگی کے جذبہ کو بیٹھانے کے لیے یہ حکم دیا کہ بیوی کی ماں اور بیٹی سے نکاح حرام ہے یا بیٹے کی بیوی سے باپ کو اور باپ کی بیوی سے بیٹے کو نکاح کرنا حرام ہے تو اس حکم میں شدت پیدا کرنے کے لئے یہ بھی حکم دیا کہ ان صورتوں میں نکاح کے ساتھ وطی کرنے سے بیوی اور ماں دونوں اس پر حرام ہوجائیں گی ، اسی طرح اگر بیٹے کی بیوی سے کوئی اپنے خیال میں جائز مباشرت کرے گا تو یہ عورت بیٹے اور باپ دونوں کے لئے حرام ہوجائے گی۔ تو زنا کی مذکورہ شدت کا تقاضا یہی ہے کہ یہ تحریم زنا سے بھی ثابت ہوجائے ورنہ لازم آئے گا کہ وطی جائز (جو تخفیف و سہولت کو چاہتی ہے) میں سختی اور زنا (جو شدت و سختی کا متقاضی ہے) میں آسانی اور سہولت پیدا ہوجائے، جو شریعت کی وضع اور حکمت و مصلحت کے یکسرمنافی ہے۔
(۱۲) وعن ابن مسعود رضی اللہ  عنہ قال ما اجتمع حلال وحرام الا غلّب الحرام علی الحلال (مصنف عبدالرزاق، ج:۷، ص: ۲۰۰، وفی سندہ ضعف وانقطاع)
ترجمہ: حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حرام وحلال جب بھی اکٹھا ہوتے ہیں تو حرام کو حلال پر غلبہ دیا جاتا ہے۔
یہ اثر اگرچہ سند کے لحاظ سے کمزور ہے لیکن اپنے مفہوم کے اعتبار سے صحیح ہے، بالخصوص فروج کے باب میں تو حضرات فقہاء کا یہ اصول ہے ”والفروج اذا تعارضا فیہا التحریم والتحلیل غلّب التحریم“ فروج میں جب حلال و حرام کے سلسلہ میں تعارض پیش آجائے تو تحریم کو غلبہ دیا جائے گا۔
اوپر مذکور یہ احادیث و آثار انشاء اللہ ایک طالب حق کو راہ صواب متعین کرنے کے لئے کافی ہونگے۔ آیندہ ”الحرام لا یحرم الحلال“ پر نظر ڈالی جائے گی۔ اور اسی پر انشاء اللہ یہ تحریر مکمل ہوجائے گی۔
مراجع:
(۱)اس حدیث کی سند کے رجال یہ ہیں : ۱جریر بن عبدالحمید الضبی، جوثقہ اور حجت ہیں اصحاب ستہ (بخاری، مسلم، ابوداؤد، ترمذی، ابن ماجہ، امام احمد وغیرہ سب ان سے روایت کرتے ہیں۔ ۲ حجاج بن ارطاة الکوفی القاضی، ان پر اگرچہ بہت سے علمائے رجال نے ”لیس بالقوی“ وغیرہ کی جرح کی ہے، لیکن خطیب بغدادی نے انھیں احدالعلماء بالحدیث والحفاظ لہ کے بلند الفاظ سے یاد کیا ہے اور حافظ مغلطانی نے لکھا ہے کہ امام شعبہ وغیرہ نے ان کی توثیق کی ہے اور امام سفیان ثوری نے ان کے قوت حافظہ کی شہادت ان الفاظ میں دی ہے ”ما رأیت احفظ منہ“ میں نے ان سے بڑا حافظ نہیں دیکھا، اور حافظ الخلیلی اپنی مشہور کتاب الارشاد میں ان کے بارے میں لکھتے ہیں ”عالم کبیر، ثقة، ضعفوہ لتدلیسہ“ عالم کبیر اور ثقہ ہیں بربنائے تدلیس لوگوں نے ان کو ضعیف کہا ہے، ان کے بارے میں حافظ الخَیل کا قول لائق اعتماد ہے، اس لئے از روئے انصاف اصول محدثین کے تحت حجاج ابن ارطاة ”حسن الحدیث“ سے کم درجہ کے راوی نہیں ہیں۔ ۳ ابن ہانی، ان کا پورا نام حمید بن ہانی، ابو ہانی الخولانی ہے، یہ صحیح مسلم، اور سنن اربعہ کے راوی ہیں۔ امام بخاری نے ”ادب المفرد“ میں ان سے روایت کی ہے۔ بعض راویوں نے غلطی سے ابن ہانی کی جگہ ”ام ہانی“ کہہ دیا ہے اور ام ہانی نام کا اس طبقہ میں کوئی معروف راوی نہیں ہے اس لئے اس غلطی پر متنبہ نہ ہونے کی بناء پر بعض حضرات نے انھیں مجہول کہہ دیا ہے، جو صحیح نہیں ہے۔ امام ابن ابی شیبہ نے مصنف میں، امام ابن حزم ظاہری نے ”المحلّٰی“ میں اور فقیہ و محدث ابوبکر جصاص نے احکام القرآن میں انھیں ”ابن ہانی“ ہی کی کنیت سے ذکر کیا ہے اور یہی صحیح ہے۔ ”ابن ہانی“ نام کے ایک دوسرے راوی حدیث بھی ہیں جن سے صرف حَرِیز بن عثمان نے روایت کی ہے، اسی بناء پر حافظ ذہبی اور حافظ ابن حجر نے انھیں مجہول کہا ہے۔ زیر نظر حدیث کی روایت سے حَرِیز کے استاذ ابن ہانی کا کوئی تعلق نہیں۔ بہرحال مذکورہ حدیث کے تینوں راوی معروف اور ثقہ ہیں۔ البتہ حدیث مرسل ہے، جو ائمہ احناف بلکہ جمہور متقدمین کے نزدیک لائق حجت ہے اور جن حضرات محدثین و فقہاء کے نزدیک مرسل روایت حجت نہیں، ان کے نزدیک بھی اگر اس کی تائید کسی دوسری مرسل یا مرفوع روایت سے یا کسی صحابی کے قول سے ہوجائے تو وہ مرسل حجت ہوجاتی ہے اور اس حدیث کی تائید متعدد صحابہ کے قول سے ہورہی ہے، جیسا کہ آئندہ سطور سے واضح ہوجائے گا۔ اس لئے اس حدیث سے مسئلہ زیر بحث پر استدلال بے غبار ہے۔ رہا امام بیہقی رحمہ اللہ کا اس حدیث کے بارے میں یہ کہنا ”وہذا منقطع و مجہول و ضعیف، حجاج بن ارطاة لا یحتج بہ فیما یسندہ فکیف بما یرسلہ ممن لا یعرف“ اس حدیث کے لائق احتجاج ہونے میں قطعا مضر نہیں، کیونکہ یہ انقطاعِ ارسال ہے اور یہ ایسی مرسل ہے جو سب کے نزدیک قابل استدلال ہے، اور سند میں مذکور ابن ہانی جیسا کہ معلوم ہوچکا ہے مجہول نہیں بلکہ معروف ہیں، مجہول ام ہانی اور حَریز کے شیخ ابن ہانی ہیں اور ان دونوں کا اس روایت سے کوئی تعلق نہیں۔ اور حجاج بن ارطاة کے بارے میں موصوف نے مبالغہ سے کام لیا ہے کیونکہ یہ حسن الحدیث سے بہرحال کم درجہ کے نہیں ہیں۔ امام مسلم ان سے مقروناً روایت کرتے ہیں اور سنن اربعہ کے مصنّفین بلاتکلف موقع احتجاج میں ان کی روایت لاتے ہیں۔
(۲)    امام سفیان ثوری اور امام اوزاعی کبار ائمہ محدثین اور فقہائے مجتہدین میں سے ہیں ایک طویل عرصہ تک ان دونوں حضرات کے فقہ پر عمل جاری رہا ہے۔
(۳) حافظ ابن حجر نے تقریب میں مغیرہ بن مقسم کے متعلق ”ثقة متقن“ کے بلند توثیقی کلمات کے بعد لکھا ہے: ”اِلاّ انہ یدلّس ولاسیما عن ابراہیم“ مگر حافظ علام کا یہ استثناء محل نظر ہے کیونکہ شیخین نے صحیحین میں متعدد مواقع میں مغیرہ عن ابراہیم سے روایت کی ہے۔
(۴) امام ذہبی لکھتے ہیں : ”ارجاء الفقہاء وہو انہم لایعدّون الصلاة والزکوٰة من الایمان ویقولون اقرار باللسان ویقین بالقلب والنزاع علی ہذا لفظی انشاء اللہ“ (سیر اعلام النبلاء، ج:۵، ص: ۲۳۳) یعنی فقہاء کا ارجاء یہ ہے کہ وہ نماز، زکوٰة (وغیرہ عبادات و اعمال کو) ایمان کا جزء نہیں شمار کرتے ان کے نزدیک ایمان نام ہے زبان کے اقرار اور دل کے یقین کا۔ (محدثین) اور فقہاء کے مابین اس بارے میں اختلاف لفظی ہے (یہ محض تعبیر کا اختلاف ہے ورنہ حقیقت ایمان و اعمال کے بارے میں ان کا مذہب ایک ہی ہے)
(۵) عبداللہ بن معقل کبار تابعین اور کثیر الحدیث ہیں، ایک بڑے محدث ہونے کے ساتھ فقیہ اور عابد و زاہد تھے، ابن فتحون نے ذیل الاستیعاب میں انھیں صحابی بتایا ہے، مگر اس پر کوئی دلیل نہیں پیش کی ہے۔
$ $ $

حرمت مصاہرت
(۳)
حبیب الرحمن اعظمی

الحرام لا یحرم الحلال پر ایک نظر:
زیر بحث مسئلہ میں جمہور کے موقف ”وطی الحرام یحرّم الحلال“ یعنی حرام وطی (بھی) حلال کو حرام بنادیتی ہے کے معارضہ میں عام طور پر حضرت عائشہ صدیقہ اور حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کی سند سے مروی روایت ”الحرام لا یحرّم الحلال“ یعنی حرام حلال کو حرام نہیں بناتا، پیش کی جاتی ہے۔ بلکہ بعض معاصر نے (جو صحیحین کی احادیث کے بجائے کسی اور صحیح حدیث سے استدلال پر چیں بجبیں ہوجاتے ہیں) اپنی ایک اخباری تحریر میں اسے اسلام کا ایک ایسا اصول بتایا ہے جسے کسی حال میں نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ہے۔ اس لیے مناسب ہے کہ اس بحث و تحقیق کے آخر میں اس روایت پر بھی ایک نظر ڈال لی جائے۔
امام ابن الجوزی اپنی مشہور محققانہ تصنیف ”تحقیق احادیث التعلیق“ میں لکھتے ہیں:
احتج الخصم بحدیثین :
(الف) الحدیث الاول: قال الدار قطنی: حدثنا عثمان بن احمد الدقاق، ثنا جعفر بن محمد بن الحسن الرازی ثنا الہیثم بن الیمان(۱)، ثنا عثمان بن عبدالرحمن، عن الزہری، عن عروة عن عائشة قالت: قال رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ”لایفسد الحلال بالحرام“(۲)
ترجمہ: حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول خدا  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حلال فاسد نہیں ہوتا حرام سے۔
(ب) طریق آخر: قال الدار قطنی: وثنا (ابوبکر یوسف بن یعقوب بن اسحاق ابن بھلول، نا جدی، ثنا عبداللہ بن نافع مولی بنی مخزوم عن المغیرة بن اسماعیل (بن ایوب بن سلمة) عن عثمان بن عبدالرحمن عن ابن شہاب عن عروة عن عائشة ان النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم سُئل عن الرجل یتبع المرأة حرامًا، ثم ینکح ابنتہا، او یتبع الابنة ثم ینکح امہا، قال: ”لا یحرم الحرام الحلال“ (ج۳، ص: ۱۸۰، ۱۸۱)
ترجمہ: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی علیہ الصلوٰة والسلام سے پوچھا گیا کہ ایک شخص ایک عورت سے حرام کاری کے لیے اس کے پیچھے لگا رہا تو اس کے بعد اس عورت کی بیٹی سے وہ نکاح کرسکتا ہے یا ایک مرد ایک لڑکی کے پیچھے لگا رہا تو کیا اس کے بعد وہ اس لڑکی کی ماں سے نکاح کرسکتا ہے؟ تو آپ  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ حرام کام حلال کو حرام نہیں کرے گا۔
(ج) الحدیث الثانی : قال الدارقطنی: وحدثنا الحسین بن اسماعیل، ثنا علی بن احمد الجواربی، ثنا اسحاق بن محمد الفروی، ثنا عبداللہ بن عمر عن نافع عن ابن عمر عن النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال: ”لا یحرم الحرام الحلال“
ترجمہ: ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”حرام نہیں بناتا ہے حلال کو حرام“۔
حضرت عائشہ صدیقہ و ابن عمر رضی اللہ عنہم سے مروی ان دونوں روایتوں کو نقل کرنے کے بعد امام ابن الجوزی لکھتے ہیں (فریق مخالف کی جانب سے بطور دلیل پیش کردہ ان دونوں روایتوں کا) جواب یہ ہے کہ
پہلی حدیث جو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے دو سندوں سے روایت کی گئی ہے اس کی دونوں سندوں میں ایک راوی عثمان بن عبدالرحمن و قّاصی ہیں جن کے بارے میں ”قال یحیی بن معین لیس بشیء، کان یکذب“ وضعفہ ابن المدینی جدًّا، وقال البخاری و النسائی والرازی وابوداوٴد، لیس بشیء، وقال الدار قطنی متروک، وقال ابن حِبّان: کان یروی عن الثقات الموضوعات لا یجوز الاحتجاج بہ
ترجمہ: امام جرح و تعدیل یحییٰ بن معین نے کہا وہ بالکل لائق توجہ نہیں وہ جھوٹ کہتا تھا، امام بخاری کے استاد علی ابن المدینی نے اس کی بہت زیادہ تضعیف کی ہے، اور امام بخاری، امام نسائی، امام ابوحاتم رازی اور امام ابوداؤد ان سب نے کہا وہ قطعاً لائق توجہ نہیں۔ (انتہی)
علاوہ ازیں امام ذہبی میزان الاعتدال، ج:۳، ص: ۴۳ اور الکاشف ،ج:۲، ص: ۱۰ میں لکھتے ہیں ”قال البخاری ترکوہ“ امام بخاری نے فرمایا کہ محدثین نے اس سے روایت لینی ترک کردی تھی۔ امام بخاری نے خود یہ تصریح کی ہے کہ جس کے متعلق میں یہ لفظ استعمال کروں اس سے روایت کرنی جائز نہیں، نیز حافظ ابن حجر تقریب، ص:۳۸۵ رقم الترجمہ ۴۴۹۳ میں لکھتے ہیں: ”متروک و کذّبہ ابن معین“ یہ متروک ہے اور ابن معین نے اس کو جھوٹا بتایا ہے۔
پھر اس حدیث کے مرکزی راوی امام ابن شہاب زہری نے صاف لفظوں میں اس بات سے انکار کیا ہے کہ وہ اس حدیث کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں چنانچہ امام عبدالرزاق نے مصنّف میں اپنے شیخ معمر بن راشد کا یہ بیان نقل کیا ہے کہ قلت لابن شہاب اَتأثرہ (ای لا یحرم الحرام الحلال) عن النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم ؟ فانکر ان یکون حدثہ عن النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم ولکن سمعہ من اناس من الناس“(ج:۷، ص: ۱۹۹)
ترجمہ: معمر بن راشد کا بیان ہے کہ میں نے ابن شہاب زہری سے دریافت کیا کہ کیا آپ یہ حدیث رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں تو انھوں نے اس کو نبی کریم علیہ الصلوٰة والتسلیم سے روایت کرنے سے انکار کیا اور کہا کہ اس بات کو لوگوں سے کہتے ہوئے سنا ہے۔
علاوہ ازیں امام بیہقی نے اپنی سند سے یونس بن یزید کا ایک قول ذکر کیا ہے جس سے معمر بن راشد کے بیان کی تائید و موافقت ہوتی ہے، بیہقی کے الفاظ یہ ہیں:
عن یونس بن یزید عن ابن شہاب انہ سئل عن الرجل یفجر بالمرأة ایتزوج ابنتہا؟ قال: قد قال بعض العلماء ”لایفسد اللّٰہ حلالا بحرام“ (سنن الکبری، ج:۷، ص: ۱۶۹)
ترجمہ: یونس بن یزید کا بیان ہے کہ ابن شہاب زہری سے پوچھا گیا کہ ایک شخص نے کسی عورت سے حرام کاری کی تو کیا وہ اس عورت کی بیٹی سے نکاح کرسکتا ہے؟ تو انھوں نے فرمایا بعض علماء کا قول ہے کہ اللہ تعالیٰ حرام سے حلال کو فاسد و حرام نہیں کرتے۔
اس حدیث کی سند کے ایک راوی عثمان بن عبدالرحمن وقّاصی پر ائمہ جرح و تعدیل کی اس شدید جرح اور سند کے مرکزی راوی امام زہری کی اس وضاحت کے بعد کہ وہ اس حدیث کو مرفوعاً روایت نہیں کرتے، مسئلہ زیربحث میں اس سے استدلال درست نہیں چہ جائیکہ اسے اسلام کے اصول کلی کے طور پر پیش کیا جائے۔
دوسری حدیث (جو حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی جاتی ہے) پر بحث کرتے ہوئے امام ابن الجوزی حنبلی لکھتے ہیں:
وفی الحدیث الثانی: عبد اللّٰہ بن عمر (بن حفص بن عاصم بن عمر بن الخطاب العمری) وہو اخو عبید اللّٰہ، قال ابن حبان: فحش خطوہ فاستحق الترک، وفیہ اسحاق الفروی، قال یحییٰ: لیس بشیء، کذاب، وقال البخاری ترکوہ“ (تنقیح تحقیق احادیث التعلیق)
ترجمہ: دوسری حدیث کی سند میں عبداللہ بن عمر (العمری) ہیں جو عبید اللہ بن عمر العمری کے بھائی ہیں، ابن حبان نے ان کے بارے میں لکھا ہے کہ یہ کثرت سے غلطی کرتے تھے اس لیے مستحق ترک ہوگئے، نیز اس کی سند میں اسحاق (ابن محمد) الفروی ہیں (جو عبداللہ بن عمر العمری سے روایت کرتے ہیں) ان کے بارے میں (امام جرح و تعدیل) یحییٰ بن معین نے فرمایا یہ لائق توجہ نہیں، کذاب ہے، اورامام بخاری نے فرمایا کہ محدثین نے ان سے روایت ترک کردی ہے۔
(ضروری تنبیہ) حافظ ابوالفرج ابن الجوزی نے اس حدیث کی سند میں واقع راوی ”اسحاق بن محمد الفروی“ پرجو جرحیں نقل کی ہیں اس نقل میں ان سے چوک ہوگئی ہے، امام جرح و تعدیل یحییٰ بن معین اور امام بخاری نے یہ جرحیں ”اسحاق بن عبداللہ بن ابی فروہ“ پر کی ہیں جو زیر نظر راوی اسحاق بن محمد بن اسماعیل بن عبداللہ بن ابی فروہ کے دادا اسماعیل بن عبداللہ کے بھائی ہیں، غالبا دونوں کے ناموں میں یکسانیت کی بناء پر ان سے یہ غلطی ہوگئی، حافظ ابن الجوزی پر اعتماد کرتے ہوئے قاضی ثناء اللہ پانی پتی نے تفسیر مظہری، ج:۲، ص: ۵۵ میں یہی جرحیں اسحاق بن محمد الفروی کے متعلق درج کردی ہیں۔ امام بخاری نے خود صحیح بخاری میں اسحاق بن محمدالفروی سے روایت کی ہے تو پھر ان کے بارے میں ”ترکوہ“ لوگوں نے انھیں ترک کردیا ہے کی جرح کیسے کریں گے۔ (دونوں سے متعلق تفصیلات کے لیے دیکھئے تہذیب الکمال، ج:۱، ص: ۱۹۲، رقم الترجمہ ۳۶۱ و ص:۱۹۷،الرقم ۳۷۴، و تہذیب التہذیب، ج:۱، ص: ۲۱۸، الرقم ۴۰۲ و ص: ۲۲۵، الرقم ۴۱۶)
اسحاق بن محمدالفروی پر ائمہ جرح و تعدیل کی جرحیں ذیل میں ملاحظہ کیجئے:
حافظ ذہبی المغنی فی الضعفاء میں ان کے ترجمہ میں لکھتے ہیں:
قال النسائی: لیس بثقة، وقال ابوداوٴد: واہ، وقال ابوحاتم وغیرہ صدوق، قلت (القائل وہو الذہبی) روی عنہ البخاری فی صحیحہ، وقال الدار قطنی: ضعیف تکلموا فیہ (ج:۱، ص: ۱۱۱، الرقم ۵۷۹)
ترجمہ: امام نسائی نے کہا وہ ثقہ نہیں ہیں، امام ابوداؤد نے کہا کمزور ہیں، ابوحاتم الرازی وغیرہ نے کہا صدوق ہیں، خود امام ذہبی نے کہا امام بخاری نے ان سے صحیح بخاری میں روایت کی ہے، اور امام دارقطنی نے کہا ضعیف ہیں محدثین نے ان پرکلام کیا ہے۔
اورحافظ ابن حجر لکھتے ہیں:
قال ابوحاتم : کان صدوقا ولکن ذہب بصرہ فربّما لُقن وکتبہ صحیحة، وقال مرة: یضطرب، وذکرہ ابن حِبّان فی کتاب الثقات قلت: (القائل الحافظ) قال الآجرّی سألت ابا داوٴد عنہ فوہاہ جدا، ․․․ وقال النسائی: متروک، وقال الدار قطنی: ضعیف وقد روی عنہ البخاری و یُوبّخونہ فی ہذا، وقال الدار قطنی ایضا: لا یترک، وقال الساجی: فیہ لین، ․․․ وقال الحاکم عُیّب علی محمد اخراج حدیثہ وقد غمزوہ (تہذیب التہذیب، ج:۱، ص: ۲۲۵)
ترجمہ: ابوحاتم رازی نے کہا وہ صدوق تھے، لیکن نابینا ہوگئے تھے تو بسا اوقات ان کی غیرمروی روایت کے بارے میں کہا جاتاکہ یہ آپ کی مروی روایت ہے تو اسے مان لیتے تھے (محدثین کی اصطلاح میں اسی کو تلقین سے تعبیر کیا جاتا ہے اور یہ راوی میں بڑا عیب شمار کیا جاتا ہے جس کی بناء پر وہ لائق احتجاج نہیں رہ جاتا) اور امام ابوحاتم نے ایک بار کہا کہ وہ مضطرب الحدیث ہیں، اور ابن حبان نے ان کا ذکر اپنی کتاب الثقات میں کیا ہے، حافظ ابن حجر کہتے ہیں کہ امام ابوداؤد کے شاگرد ابو عبید آجرّی کا بیان ہے کہ میں نے ان کے متعلق ابوداؤد سے سوال کیا تو انھوں نے ان کو بہت کمزور بتایا، اور امام نسائی نے کہا وہ متروک ہیں، اور دارقطنی نے کہا ضعیف ہیں اور بخاری نے ان کے واسطہ سے روایت کی ہے اور محدثین نے اس پر امام بخاری کی توبیخ کی ہے، اور دارقطنی نے یہ بھی کہا کہ یہ متروک نہیں ہیں، اور ساجی نے کہا ان میں کمزوری ہے اور امام حاکم نے کہا محدثین نے بخاری کے ان سے روایت کرنے پراعتراض کیا ہے۔ انتہیٰ
ان تفصیلات کا خلاصہ یہ ہے کہ یہ فی الجملہ صدوق ہیں (اور امام ابوحاتم رازی کی تصریح کے مطابق صدوق کی روایت بغرض بحث و نظر لکھی جائے گی دیکھئے کتاب الجرح والتعدیل، ج:۲، ص: ۳۷) اور ان کی کتاب صحیح تھی،اور نابینا ہوجانے کے بعد ان کا حافظہ لائق اعتبار نہیں رہ گیا تھا انھیں وجوہ سے ان کی سند سے روایت کی تخریج پر محدثین نے امام بخاری پر اعتراض کیا ہے۔ جس کا جواب حافظ ابن حجر نے ہدیة الساری مقدمہ فتح الباری میں ان الفاظ سے دیا ہے ”کأنہا مما اخذ عنہ من کتابہ قبل ذہاب بصرہ“ (ص:۵۵۰) امام بخاری کی ان سے مروی یہ روایت ممکن ہے ان روایتوں میں سے ہو جو ان کے نابینا ہونے سے پہلے ان کی کتاب سے لی گئی ہو۔ جس کاحاصل یہی ہے کہ حافظ ابن حجر ان کے ضعف کو بالخصوص نابینا ہوجانے کے بعد تسلیم کرتے ہیں۔ البتہ ان کی سند سے امام بخاری کی تخریج کردہ روایت کو صحیح قرار دیتے ہیں۔
حاصل کلام یہ ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی اس حدیث میں دو راوی مسلسل یعنی اسحاق بن محمد الفروی،اور عبداللہ بن عمر العمری ضعیف ہیں۔ اگرچہ دونوں کا ضعف شدید نہیں ہے لہٰذا اگر سند میں ان میں سے صرف ایک ہوتا تو ایک حد تک یہ قابل قبول ہوسکتی تھی، لیکن اس اجتماع کی صورت میں یہ لائق احتجاج نہیں ہوسکتی۔ لہٰذا حضرت عائشہ صدیقہ اور حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہم سے مروی ان دونوں روایتوں سے مسئلہ زیر بحث پر استدلال صحیح نہیں ہے چہ جائیکہ انھیں قواعد الاصول کے طور پر پیش کیا جائے۔
یہ روایت اپنے عموم پر نہیں ہے:
اس موقع پر یہ بات بھی ملحوظ رہنی چاہئے کہ اس روایت کا عام معنی مراد لینا صحیح نہیں ہے کیونکہ باتفاق فقہاء و محدثین بہت سے حرام امور ایسے ہیں جو حلال کو حرام کردیتے ہیں، ایسے چند امور بطور مثال ملاحظہ کیجئے:
(الف) ماہ رمضان کے دن میں بیوی یا باندی سے ہم بستری باتفاق اہل اسلام حرام ہے، جبکہ اس وطی حرام سے باتفاق حرمت مصاہرت کا ثبوت ہوجاتا ہے۔
(ب) بحالت حیض (ماہواری کی حالت میں) بیوی یا باندی سے جنسی عمل باتفاقِ مسلمین حرام ہے، اس وطی حرام سے سب کے نزدیک حرمت مصاہرت ثابت ہوجاتی ہے۔
(ج) اپنی بیوی سے ظہار(۱) بلا اختلاف حرام و ناجائز ہے، جبکہ اس فعل حرام سے بیوی سے باتفاق ہم بستری حرام ہوجاتی ہے۔
(د) ردّت (یعنی اسلام سے پھرجانا نعوذ باللہ منہا) قطعی طور پر حرام ہے، اور اس فعل حرام سے باتفاق زوجہٴ مسلمہ حرام ہوجاتی ہے۔
(ھ) وطی بالشبہ (یعنی اندھیرے وغیرہ کی بناء پر غلطی سے بیوی کی ماں یا بیوی کی بیٹی سے ہمبستری) حرام و ناجائز ہے، اس وطی حرام سے بھی سب کے نزدیک حرمت مصاہرت ثابت ہوجاتی ہے۔
(و) وطی بنکاح فاسد (یعنی وہ نکاح جسے شریعت نے صحیح قرار نہیں دیا ہے) بھی حرام و ناجائز ہے جبکہ سب کے نزدیک بلا اختلاف اس سے حرمت مصاہرت کا ثبوت ہوجاتا ہے۔
غرضیکہ باتفاق علماء اسلام حرام سے حلال کے حرام ہوجانے کی بیشمار صورتیں ہیں اس لئے ”الحرام لایحرّم الحلال“ کا یہ معنی کہ ”کوئی حرام، حلال کو حرام نہیں کرتا“ کسی کے نزدیک صحیح نہیں ہے، بلکہ سب کے نزدیک اس کا درست اور واقع کے مطابق یہ معنی ہے کہ بعض حرام، حلال کو حرام نہیں کرتے،اور اس متفقہ معنی کی صورت میں اس روایت سے زنا سے حرمت مصاہرت کے ثابت نہ ہونے پر استدلال کے لیے ضروری ہوگا کہ پہلے کسی دلیل شرعی سے یہ ثابت کیا جائے کہ ”زنا“ بھی بعض ان حرام کاموں میں سے ہے جو حلال کو حرام نہیں بناتے ہیں۔ یہ دلیل پیش کئے بغیر اس روایت سے استدلال از روئے اصول صحیح نہیں ہے۔
اس بحث و نظر سے یہ بات منقح ہوکر سامنے آگئی کہ زنا سے حرمت مصاہرت کے ثابت نہ ہونے پر یہ روایت سند اور معنی دونوں لحاظ سے دلیل بنانے کے لائق نہیں چہ جائیکہ اسے فقہ اسلامی کے قواعد اصول کے طور پر پیش کیا جائے۔
اوپر مذکور تفصیلات سے یہ بات روشن ہوگئی کہ مسئلہ زیر بحث کا تعلق فقہائے اسلام کی عقل رائے سے نہیں بلکہ براہ راست قرآن و حدیث، آثار صحابہ اور تابعین رضوان اللہ علیہم اجمعین کی تصریحات سے ہے، اور اس میں کس صاحب ایمان کو کلام ہوسکتا ہے کہ سلف صالحین کی یہ جماعت قرآن وحدیث کے علم و فہم، اسلامی احکام کے عِلَل وحِکَم کے ادراک، نیز صدق و دیانت اور اسلام و مسلمانوں کی خیرخواہی میں جس بلند و بالا مرتبہ پرفائز تھی، بعد کی نسلیں بغیرکسی استثناء کے اس درجہ تک نہیں پہنچ سکتیں۔ اس لیے فقہ اسلامی کی تاسیس اور تدوین و ترتیب میں ان کے آثار و اقوال سے چشم پوشی نہیں کی جاسکتی۔ پھر فقہاء مجتہدین میں اس مذہب کے اختیار میں امام اعظم ابوحنیفہ اوران کے تلامذہ ہی نہیں بلکہ امیرالمومنین فی الحدیث اورامام مجتہد سفیان ثوری، امام اوزاعی، امام احمد بن حنبل وغیرہ رحمہم اللہ کا بھی یہی مذہب ہے۔ اوپر سطور میں ہم بتا چکے ہیں کہ امام سفیان ثوری اور امام اوزاعی رحمہما اللہ ان فقہائے مجتہدین اور ائمہ حدیث میں سے ہیں جن کے مذہب پر ایک زمانہ تک عمل کیا جاتا رہا ہے۔ علاوہ ازیں امام دارالہجرة مالک بن انس رحمہ اللہ کے مذہب کے سب سے بڑے اور معتبر ترجمان ابن القاسم کی روایت کے مطابق امام مالک بھی مذکورہ ائمہ مجتہدین کے ہم نوا ہیں، اگرچہ جمہور مالکیہ امام مالک کے دوسرے قول پر عمل پیرا ہیں جو موٴطاء مالک میں مذکور ہے۔ پھر حافظ ابن حجر فتح الباری، ج:۱۲، ص: ۴۳ میں لکھتے ہیں ”ہو قول الجمہور“ یہی جمہور کا قول ہے اور شرح ابوداؤد المنہل کے تکملہ ”فتح الملک المعبود“ ج:۴، ص: ۴۸۱ میں علامہ امین محمود استاذ جامع ازہر مصر نے صراحت کی ہے کہ یہی جمہور صحابہ اور تابعین کا مذہب ہے، تو اس جمہور صحابہ، تابعین، ائمہ مجتہدین اور فقہائے محدثین کے اس مذہب منصور پر حالیہ دنوں کا یہ شور و غوغا آخر چہ معنی دارد؟
ہو ا ؤ ں  کا  ر خ  بتا ر ہا  ہے ضر و ر طوفان آرہا ہے
نگاہ رکھنا سفینہ والو! اٹھی ہیں موجیں کدھر سے پہلے
بجا شکایت:
یورپ کی فکری و تہذیبی غلامی میں گرفتار میڈیا جس نے ایک عرصہ سے اسلامی تہذیب وثقافت کے خلاف مہم چھیڑ رکھی ہے، اس سے مسئلہ زیر بحث میں کسی سنجیدگی کی توقع کیونکر کی جاسکتی تھی، چنانچہ اپنی قدیم روایت کے مطابق اس نے اپنے آقاؤں کا حق ادا کرنے میں بڑی تندہی کا ثبوت دیا، اسی طرح جماعتِ اہل حدیث (غیرمقلدین) جس کے ایک طبقہ کو فقہ اسلامی کے متفقہ عظیم مجتہد امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کو ایک صحیح العقیدہ معمولی درجہ کا مسلمان ماننا بھی گوارا نہیں، اس نے بھی اسلامی فقہ کو غبار آلود بنانے کے لیے اپنی ساری صلاحیتیں صرف کردیں اور علمی و دینی مسائل میں بحث و نظر کے مسلمہ آداب کو بالائے طاق رکھ کر طعن و تشنیع کے جس قدر تیر ان کے ترکش میں تھے انھیں آزمانے میں پوری چابکدستی کا مظاہرہ کیا، اور اس کی قطعی پرواہ نہیں کی کہ ان کے اس رویہ سے غیروں میں اسلام کی کیا تصویر ابھرے گی۔
دریا کو اپنی موج کی طغیانیوں سے کام
کشتی کسی  کی  پار  ہو یا درمیاں  ر ہے
اس موقع پر ہمارے بعض اصلاح پسند دانشوروں نے خاموشی کو اپنی دانشوری کی توہین سمجھا لہٰذا وہ بھی اس دنگل میں کود پڑے اور آج کے مغرب گزیدہ معاشرہ (جس میں بیٹی باپ سے محفوظ نہیں، بہن بھائی سے خائف ہے اور بھتیجی و بھانجی، چچا و ماموں سے ترساں ہے) کی اصلاح و درستگی کی دانشمندانہ فکر کرتے الٹے فقہ اسلامی کی اصلاح و تجدید کے درپئے ہوگئے، اور اپنی دانشوری کو بروئے کار لاتے ہوئے یہ آوازہ بلند کیا کہ فقہ اسلامی کا یہ قدیم مجموعہ آج کے معاشرہ کی رہنمائی نہیں بلکہ ہم رکابی سے قاصر ہے اس لئے وقت کا تقاضا ہے کہ نئے اجتہاد کے ذریعہ اسے تازہ دم اوراس قابل بنادیا جائے کہ مغربی تہذیب سے ہم آغوش معاشرہ کا ساتھ دے سکے۔ اور حد تو یہ ہے کہ بعض وہ سیاسی دانشور جو انگریزی ترجمہ کی مدد کے بغیر قرآن و حدیث کی ایک سطر کا معنی سمجھ نہیں پاتے، شریعت اسلامی میں اجتہاد کے لیے پر تول رہے ہیں اور اپنے طور پر اس کا ایک مجتہدانہ خاکہ بھی پیش کردیا ہے ان کے تخیل کی اس بلندپروازی پر اس کے سوا اور کیا کہا جاسکتا ہے کہ
اپنی حدوں میں رہئے کہ رہ جائے آبرو
او پر کو  د یکھنا  ہے  تو پگڑی سنبھالئے
لہٰذا پہلے اپنے انداز اجتہاد کی مطلوبہ صلاحیتیں پیدا کیجئے پھر شوق سے اجتہاد کیجئے سنا اور مانا جائے گا۔
بعض اشکالات و مطالبات پر ایک نظر
(الف) زیر گفتگو مسئلہ میں احناف و حنابلہ بلکہ جمہور کے موقف کے معارضہ میں بڑی شد و مد کے ساتھ یہ بات کہی جارہی ہے کہ ”یہ ایسا اندھا فتویٰ ہے جو مجرم و غیرمجرم میں فرق کئے بغیر دونوں کو مورد سزا قرار دیتا ہے اس لئے از روئے عقل و انصاف یہ لائق تسلیم نہیں ہے۔“
بہ نظر ظاہر یہ ایک مضبوط اعتراض معلوم ہورہا ہے اسی لئے فقہ اسلامی کی دشمنی یا سادہ لوحی میں اسے خوب اچھالا جارہا ہے جبکہ یہ ایک نرا مغالطہ ہے، کسے معلوم نہیں کہ آج کی مہذب دنیا میں بعض جرائم کی سزا میں مجرم کو تختہٴ دار پر چڑھا دیا یا قتل کردیا جاتا ہے، کیونکہ قانون و انصاف کا فیصلہ یہی تھا لیکن قانون کے اس فیصلہ سے مجرم کی بے گناہ بیوی بیوہ اور اس کے معصوم بچے یتیم ہوگئے آخر اس بیچاری عورت نے کیا قصور کیا تھا جس کی پاداش میں اسے بیوگی کی صبر آزما اور کسمپرسی کی زندگی پر مجبور اور اس کے نادار و ناتواں بچوں کو بے سہارا بنادیاگیا؟ ان غرض پسند فرزانوں کو کون سمجھائے کہ یہ قانون کا اندھا پن نہیں بلکہ اس کا دور رس لازمی اثر ہے جس سے سزایافتہ مجرم کے بعض متعلقین متأثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتے۔ یہ ایک ایسی مشاہد حقیقت ہے جس کے شعور کے لئے کسی غور و فکر کی بھی ضرورت نہیں لیکن یہ پرستان عقل و دانش فقہ اور علمائے فقہ کی دشمنی میں اس قدر مدہوش ہیں کہ انھیں یہ بھی پتہ نہیں کہ ان کے سر سے کیا نکل رہا ہے۔
بک رہا ہوں جنوں میں کیا کیا
کچھ  نہ  سمجھے  خد ا  کرے کوئی
(ب) ”بعض حلقوں کی جانب سے بڑے پرجوش انداز میں یہ اصرار کیا جارہا ہے کہ اس مسئلہ پر صریح آیت قرآنی یا صریح حدیث سے دلیل پیش کی جائے بغیراس کے یہ فتویٰ نہ شرعی ہوگا اور نہ اس لائق کہ اسے قبول کیا جائے۔“
ہر پڑھا لکھا مسلمان جانتا ہے کہ سارے اہل سنت والجماعت کے نزدیک اصول فقہ بالفاظ دیگر شریعت کے دلائل چار ہیں: (۱) قرآ ن حکیم، (۲) حدیث رسول (فقہائے احناف اور بہت سارے دیگر فقہاء و محدثین کے یہاں بعض قیدوں کے ساتھ حضرات صحابہ بالخصوص خلفاء اربعہ رضوان اللہ علیہم کے فتویٰ اوراقوال بھی حدیث ہی کے حکم میں ہیں) (۳) اجماع، (۴) قیاس۔
لہٰذا ان چاروں اصولوں میں سے جس اصل سے بھی کوئی حکم ثابت ہوجائے وہ فرق مراتب کے ساتھ شریعت ہی کا حکم ہوگا، اور اس کی اس شرعی حیثیت کو تسلیم کرنالازم ہے، اس لیے یہ مطالبہ کہ فلاں اصول و دلیل مسئلہ کے ثبوت میں پیش کی جائے اصولی طور پر غلط ہے۔ بلاشبہ کسی دعویٰ پر مدعی سے دلیل اور گواہ کا مطالبہ شرع، قانون اور عقل ہر اعتبار سے درست ہے اور فریق مخالف کو اس مطالبہ کا مکمل حق ہے نیز مدعی کے پیش کردہ دلیل و گواہ پر معارضہ اور جرح کا بھی اسے حق حاصل ہے، لیکن مدعی سے کسی خاص و متعین دلیل و گواہ کا مطالبہ کسی لحاظ سے بھی درست نہیں۔ دنیا کے کسی بھی مذہب یا قانون میں اس مطالبہ کی کوئی گنجائش نہیں۔ اس لئے یہ مطالبہ انتہائی بیخبری، یا ضد و عناد پر مبنی ہے، جو اس کا مستحق ہے کہ باہر گلی میں پھینک دیا جائے۔
نئی تہذیب کے انڈے ہیں گندے
ا ٹھا کر  پھینک  د و  با  ہر گلی  میں
(ج) کچھ پڑھے لکھے لوگوں کی طرف سے یہ بھی کہاجارہا ہے کہ اس مسئلہ کو عقلی دلیلوں سے مدلل کیا جانا چاہئے تھا تاکہ سب کے لئے قابل قبول ہوجاتا۔
ان ناصحین سے عرض ہے کہ جن باتوں کا تعلق نقل وسماع (زبانی یا تحریری بیان اور سننے) سے ہوتا ہے اس پر صحیح دلیل قائم نہیں کی جاسکتی، ان میں نقل و بیان پر اعتماد کیا جاتا ہے، مثلاً ہر شخص کو اپنے والد کے بارے میں بغیر ادنیٰ تردد و شک کے یقین کامل ہوتا ہے کہ یہی میرے والد اور باپ ہیں کیونکہ آدمی جب سے ہوش سنبھالتا ہے ہر قریب بعید، آشنا، غیر آشنا، اپنے اور پرائے سب سے یہی سنتا رہتا ہے کہ ”یہ فلاں کے والد“ ہیں، تو کیا کوئی شخص اپنے والد کے والد ہونے پر کوئی عقلی دلیل قائم کرسکتا ہے؟ ہرگز نہیں کیونکہ نقلی و سماعی باتیں دائرئہ عقل میں آتی ہی نہیں، ہم تاریخ کی کتابوں میں پڑھتے رہتے ہیں کہ ”جہانگیر“ ہندوستان کا ایک عادل و منصف بادشاہ تھا، تاریخ کے اس بیان پر اعتماد کی بناء پر ہمیں جہانگیر کی بادشاہت پر پورا وثوق اور یقین ہے، اب اگر کوئی فریب خوردہ عقل ہم سے مطالبہ کربیٹھے کہ جہانگیر ہندوستان کا حکمراں تھا اس پر عقلی دلیل پیش کرو ورنہ پھر اپنے اس یقین سے دست بردار ہوجاؤ تو کیا اس تاریخی و نقلی خبر پر دلیل عقلی نہ ہونے کی بناء پر ہم اپنے یقین سابق سے منحرف ہوجائیں گے؟ ہرگز نہیں، لہٰذا شرع سے منقول اس حکم پر دلیل عقلی کامطالبہ بجائے خود بے عقلی ہے۔
اپنی کمزوری بیان کرتا ہے ہر دانش فروش
حضرت  ناصح نہیں سمجھے تو  سمجھا نے لگے
(د) ایک صاحب قلم عالم نے مسئلہ زیر نظر سے متعلق اپنی تحریروں میں بار بار یہ بات لکھی ہے کہ اسلامی شریعت میں مصلحت کا بطور خاص لحاظ رکھاگیا ہے مگراس فتویٰ کے جاری کرنے میں مصلحت کو نظر انداز کردیاگیا۔
اس سلسلے میں آں محترم سے عرض ہے کہ علمائے اسلام نے مصلحت کی دو قسمیں بیان کی ہیں ایک مصلحت دینی اور دوسری مصلحت دنیوی اور ساتھ ہی یہ وضاحت بھی کردی ہے کہ پہلی یعنی مصلحت دینی کے ثبوت و اعتبار کے واسطے ضروری ہے کہ شارع کی جانب سے اس کے مصلحت ہونے پر نص ہو کیونکہ شرعی مصلحت وہی ہوسکتی ہے جسے خود شریعت مصلحت قرار دے۔ ایسا نہیں ہوسکتا کہ مصلحت تو شریعت کی ہو اور اس کی تعیین و تشخیص کوئی اور کرے ۔
اور دوسری یعنی مصلحت دنیوی کے معتبر ہونے کے لئے یہ شرط ہے کہ وہ مصلحت کسی حکم شرعی سے متعارض نہ ہو، کیونکہ شارع کے حکم اور مصلحت میں تعارض و ٹکراؤ کی صورت میں لازم آئے گا کہ (حاشا وکلا) شارع کو اس مصلحت کا علم نہیں تھا اسی لئے تو اس کے معارض و مخالف حکم دیدیا۔ اور ظاہر ہے کہ یہ لازم قطعی طور پر غلط ہے لہٰذا اس مصلحت کا مصلحت ہونا بھی کسی حال میں صحیح نہیں ہوسکتا کیونکہ جس چیز کی بنیاد غیر درست ہوتی ہے وہ بجائے خود غیر درست ہی ہوا کرتی ہے۔
خشت اول چوں نہد معمار کج
تا  ثر یا  می  ر و د  د یو ا ر  کج
جبکہ آں محترم نے اپنی تحریر میں یہ واضح نہیں کیا ہے کہ اس فتویٰ میں جس مصلحت کو نظر انداز کردیاگیا ہے وہ کونسی مصلحت ہے دینی یا دنیوی نیز اس کی عرفی حیثیت بھی بیان نہیں کی ہے کہ وہ شرائط کے مطابق معتبر ہے یا نہیں، آخر اس مجمل و مبہم مصلحت کے ذکر سے ان کی غرض کیاہے؟ حالانکہ وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ دنیائے علم و فن میں اس طرح کی مجمل و مبہم باتیں نہ صرف یہ کہ پایہٴ اعتبار سے محروم ہوتی ہیں بلکہ جن چیزوں میں ان کا عمل دخل ہوتا ہے انھیں بھی بے اعتبار بنادیتی ہیں۔
یہ تحریر اندازہ سے زیادہ طویل ہوگئی اس لئے سلسلہ گفتگو انھیں گذارشات پر ختم کیا جاتا ہے۔ موضوع سے متعلق اس بحث و نظر میں خدا جانتا ہے کہ کسی کی تردید یا تنقیص قطعی مقصود نہیں بلکہ دلائل کی تحقیق و تنقیح سے متعلق یہ ایک طالب علمانہ کوشش ہے اور بس۔
وما توفیقی الا باللّٰہ وعلیہ توکلت والیہ انیب، وآخر دعوانا ان الحمد للّٰہ رب العالمین
والصلوٰة والسلام علی سیدالانبیاء والمرسلین وعلی آلہ اصحابہ اتباعہ اجمعین



No comments:

Post a Comment